رازِ حقیقت — Page 233
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳۳ ايام الصلح قبل نزول بلا اطلاع دی جائیں کہ فلاں وقت تک بلا آنے والی ہے تو وہ دُعا اور صدقہ سے رڈ بلا چاہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی باطنی شریعت نے نوع انسان کے صحیفہ فطرت پر یہی نقش لکھا ہے اور یہی فتوی دیا ہے کہ دعاؤں اور صدقات کے ساتھ بلائیں دفع ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام قو میں طبعا اس بات کی طرف مائل ہیں کہ کسی بلا کے نزول کے وقت یا خوف نزول کے وقت دعاؤں پر زور مارتے ہیں۔ ایک جہاز پر سوار ہونے والے جب غرق ہونے کے آثار پاتے ہیں تو کس طرح گڑ گڑاتے اور روتے ہیں ۔ قرآن شریف میں حضرت نوح سے لے کر ہمارے سید و مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تک جس قدر نافرمانوں کے حق میں انذاری پیشگوئیاں ذکر فرمائی گئی ہیں وہ سب شرطی طور پر ہیں جن کے یہی معنے ہیں کہ فلاں عذاب تم پر آنے والا ہے پس اگر تم تو بہ کرو اور نیک ۵ کام بجالاؤ تو وہ موقوف رکھا جائے گا اور نہ تم ہلاک کئے جاؤ گے ۔ ایسی پیشگوئیوں سے قرآن شریف بھرا پڑا ہے یا پھر تعجب کہ بعض لوگ مسلمان کہلا کر ایسے اعتراض کرتے ہیں جو قرآنی تعلیم حاشيه ان آیات پر نظر غور ڈالو إِنَّهُ مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ یعنی جو شخص صبر کرے گا اور ڈرے گا خدا اس کا اجر ضائع نہیں کرے گا ۔ یہ عام پیشگوئی ہے جو تقویٰ اور صبر کے ساتھ مشروط ہے اور پھر ایک اور پیشگوئی میں عذاب کا ذکر فرما کر آخر یہ فرمایا مَا يَفْعَلُ اللهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ کے یعنی خدا تعالیٰ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار اور مومن بن جاؤ گے۔ اس پیشگوئی میں ظاہر فرمایا کہ آنے والا عذاب شکر اور ایمان کے ساتھ دُور ہو جائے گا۔ پھر ایک اور جگہ فرمایا فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَأَعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ * وَمَا لَهُمْ مِّنْ تُصِرِينَ وَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَيُوَ فِيْهِمْ أُجُورَهُمْ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِینَ کے یعنی میں کافروں پر عذاب شدید نازل کروں گا کیا دنیا میں اور کیا آخرت میں مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو میں انہیں ان کا پورا بدلہ دوں گا ۔ دیکھو اس جگہ بھی ایمان کی شرط کے ساتھ عذاب کا ٹل جانا بیان فرمایا ہے ۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے ۔ فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ يوسف : ۹۱ ۲ النساء : ۱۴۸ ۳ ال عمران : ۵۸۰۵۷