رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 550

رازِ حقیقت — Page 226

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۲۶ كشف الغطاء اس کو قرار واقعی سزا دے تا ملک میں ایسی بدی پھیلنے نہ پاوے۔ حفظ امن کے لئے نہایت سہل طریق یہی ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے نامی مولویوں سے دریافت کیا جائے کہ یہ شخص جو ان کا سرگروہ اور ایڈووکیٹ کہلاتا ہے اس کے کیا اعتقاد ہیں؟ اور کیا جو کچھ یہ گورنمنٹ کو اپنے اعتقاد بتلاتا ہے اپنے گروہ کے مولویوں پر بھی ظاہر کرتا ہے؟ کیونکہ ضرور ہے کہ جن مولویوں کا یہ سرگروہ اور ایڈووکیٹ ہے ان کے اعتقاد بھی یہی ہوں جو سر گروہ کے ہیں۔ ☆ بالآخر ایک اور ضروری امر گورنمنٹ کی توجہ کے لئے یہ ہے کہ محمد حسین نے اپنے اشاعۃ السنہ جلد ۱۸ نمبر ۳ صفحہ ۹۵ میں میری نسبت اپنے گر اپنے گروہ کو اکسایا ہے کہ یہ شخص واجب القتل ہے پس جب کہ ایک قوم کا سرگروہ میری نسبت واجب القتل ہونے کا فتوی ہم دیتا ہے تو مجھے گورنمنٹ عالیہ کے انصاف سے امید ہے کہ جو کچھ ایسے ہے کہ جو کچھ ایسے شخص کی نسبت قانونی سلوک ہونا چاہیے وہ بلا توقف ظہور میں آوے تا اس کے معتقد ثواب حاصل کرنے کے لئے اقدام قتل کے منصوبے نہ کریں۔ فقط راقم خاکسار مرزاغلام احمد از قادیاں ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۸ء ☆☆☆ تعداد ۷۰۰ نوٹ: محمد حسین نے اس قتل کے فتوے کے وقت یہ جھوٹا الزام میرے پر لگایا ہے کہ گویا میں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کی ہے اس لئے میں قتل کرنے کے لائق ہوں مگر یہ سراسر محمد حسین کا افترا ہے جس حالت میں مجھے دعوی ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں اگر نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو بُرا کہتا تو اپنی مشابہت ان سے کیوں بتلاتا ؟ کیونکہ اس سے تو خود میرا برا ہونا لازم آتا ہے ۔ منہ مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیاں