رازِ حقیقت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 550

رازِ حقیقت — Page 176

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۷۶ را از حقیقت بلکہ عــجـبـنـا لـهہ کہا ہے۔ اب بٹالوی صاحب فرماویں کہ اہل علم کے نزدیک ایک مولوی کہلانے والے کی یہی ذلت ہے یا اس کا کوئی اور نام ہے۔ اور یہ بھی فتوی دیں کہ اس ذلت کو فوری ذلت کہنا چاہیے یا کوئی اور نام رکھنا چاہیے۔ شیخ کینہ ور نے اپنے جوش کینہ سے جلد تر اپنے تئیں اس شعر کا مصداق بنالیا کہ مرا خواندی و خود بدام آمدی نظر پخته تر کن که خام آمدی دیکھنا چاہیے کہ میری ذلت کی تلاش میں کیسی اپنی ذلت ظاہر کر دی۔ جس شخص کو مشکوۃ شریف کی پہلی حدیث کی بھی خبر نہیں اور جو حدیث اسلام شناسی کا مدار ہے اس کے الفاظ بھی معلوم نہیں اور جوامر بخاری اور مسلم میں بتصریح مذکور ہے اس سے اب تک سفید ریش ہونے کی حالت میں بھی ایک ذرہ اطلاع نہیں کیا ایک منصف انسان یسے شخص کا نام مولوی رکھ سکتا ہے۔ پس جس شخص کی عربی دانی کا یہ حال ہے اور حدیث دانی کی یہ حقیقت کہ مشکوۃ کی پہلی حدیث کے الفاظ سے ہی نا آشنائی ہے اُس کا حال بے شک قابل رحم ہے اور اُس کی ذلت پردہ پوشی کی کوششوں سے بالا تر ہے۔ اور اس کی یہ ذلت بلا شبہ فوری ذلت ہے جو نشان کے طور پر اس کی درخواست کے موافق ظاہر ہوئی ۔ اُس نے اپنے منہ سے فوری ذلت مانگی خدا نے فوری ذلت ہی دکھلائی ۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ اس الہام کو کسی کی موت یا ٹانگ ٹوٹنے سے تعلق نہیں ۔ یہ صرف کا ذب کی ذلت ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ سو قبل اس کے جو خدا تعالیٰ کا کوئی اور بھاری نشان ذلت ظاہر کرنے کے لئے ہو یہ ذلت بھی کاذب کے لئے خدا کے ہاتھ کا ایک تازیانہ ہے اور الہام اَتَعْجَبُ لامری میں در حقیقت یہ ایک نکتہ پوشیدہ تھا کہ یہ الہام محمد حسین کے لئے ایک پوشیدہ پیشگوئی تھی جس میں اشارہ کے طور پر یہ بیان تھا کہ محمد حسین فقره اتعجب لامری پر اعتراض کرے گا اور اس کے یہ معنے ہیں کہ اے محمد حسین کیا تو لامری کے لفظ پر تعجب کرتا ہے اور میرے اس الہام کو غلط ٹھہراتا ہے اور اس کا صلہ من بتلاتا ہے۔ دیکھ میں تیرے پر ثابت کروں گا کہ میں عشاق کے ساتھ ہوں اور تیری ذلت ظاہر کروں گا۔ سو وہی ذلت ظاہر ہوئی۔ اور اس پر حصر نہیں ہے۔ کیونکہ محمد حسین اور اس کے دوست اس ذلت کو حلوہ کی طرح ہضم کر جائیں گے یا شیر مادر کی طرح پی جائیں گے اس لئے وہ ذلت جو کا ذب اور ظالم کے لئے آسمان پر طیار ہے وہ اس سے بڑھ کر ہے۔ خدا نے مجھے الہام دیا ہے کہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا پس اگر میں ناحق ذلیل کیا گیا ہوں تو خدا کے اُس ذلت دینے والے نشان کا اُمیدوار ہوں جو جھوٹے اور ظالم اور مفتری اور دجال کے ذلیل کرنے کے بارے میں ہے۔ اور اگر میں ہی ایسا ہوں تو میں ذلیل ہونگا ورنہ ان دو فریق میں سے جو ظالم اور کا ذب ہو گا وہ اس ذلت کا مزہ چکھے گا۔ علاوہ اس علمی پردہ دری کے محمد حسین اور اس کے گروہ کو ایک اور بھی فوری ذلت پیش آئی ہے کہ واقعات صحیحہ یقینیہ سے بپایہ ثبوت پہنچ گیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نہ صلیب پر فوت ہوئے اور نہ آسمان پر چڑھے بلکہ یہود کے قتل کے ارادہ سے مخلصی پا کر ہندوستان میں آئے اور آخر ایک سو بیس کی عمر میں سری نگر کشمیر میں فوت ہوئے۔ پس محمد حسین وغیرہ کے لئے یہ ماتم سخت اور ذلت سخت ہے۔ منہ ۱۲۰