رازِ حقیقت — Page 128
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۲۸ نجم الهدى الكلام۔ ثم جعل يذكرني في محافل بعد اس کے کوئی کلام نہ کی ۔ پھر اس نے یہ کام بتوهين وتحقير، وأراد أن يجز أمرى شروع کیا کہ ہر ایک محفل میں مجھے تحقیر اور تو ہین ويريه قومه كشيء حقير و متاع سے یاد کرتا اور یہ دل میں ٹھانا کہ میرے کاروبار کو كـقـطـمـيـر ۔ فاستعمل الأكاذيب پراگندہ کرے اور قوم کی نظر میں مجھے ایک ذلیل لتكميل هذه الإرادة، واشترى الشقاوة وبعد من السعادة۔ وكم من مفتريات افترى و كم من بهتان أشاعه انسان کی طرح دکھلاوے ۔ سو اُس نے اس ارادے کے پورا کرنے کے لئے جھوٹ اور افترا پر کمر باندھی اور بد بختی کو خریدا اور سعادت سے دور جا پڑا اور بہت سے افترا بنائے اور بہت سے من حقد وهوى۔ وصار شغله | بہتان گانٹھے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب نبينا المصطفى، وتكذيب گالیاں دینا شروع کیا اور قرآن شریف کی كتابنا الذي هو عين الهدى تكذيب کرنا اپنا پیشہ قرار دیا اور اپنی کتابوں میں وكم من كُتب أطال المقول فيها اس نے زبان درازی شروع کی اور بزرگوں اور وهذى، وطفق يهتك أعراض العلية آسمانی چاندوں کی ہتک عزت اُس کا شیوہ ہوگئی وبدور العلى، ونُخب حضرة العزة اور خدا تعالیٰ کے پیاروں کو بُرا کہنا اس نے اپنا وأحبة ربنا الأعلى، وما خشى طريق بنا لیا ۔ مگر خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس کی گفتگوئے در میان نیاورد ۔ بعد چندے ایس و تیره پیش گرفت کہ ہر جامی رفت در تذلیل و تحقیر من میکوشید و بدی یاد میکر دو بران شد که کار و بار مرا بر هم زند و در دیده مردم مرا هیچ کا ره وا نماید و جهت حصول ایں کام کمر بر افتراها و دروغ با فیها بر بست و نبی کریم مارا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہانت و تکذیب قرآن حکیم پیشه گرفت و برگزیدگان خدا و نجوم سما سقط متن و دشنام دادن و اهانت و تکذیب گفتن را در کتب خود نا سزا می گفت ۔ خلاصہ ایک گونہ ناہنجار یہا و بے اندامی با شعار خود کرد۔