قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 422

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۱۸ قادیان کے آریہ اور ہم قادیان کے آریہ آریوں پر ہے صد ہزار افسوس دل میں آتا ہے بار بار افسوس ہو گئے حق کے سخت نافرمان کر دیا دیں کو قوم پر قربان وہ نشاں جن کی روشنی سے جہاں ہو کے بیدار ہو گیا لرزاں ان نشانوں سے ہیں یہ انکاری پر کہاں تک چلے گی طراری اُن کے باطن میں اک اندھیرا ہے کین و نخوت نے آکے گھیرا ہے لڑ رہے ہیں خدائے یکتا سے باز آتے نہیں ہیں غوغا قوم کے خوف سے وہ مرتے ہیں سونشاں دیکھیں کب وہ ڈرتے ہیں موت لیکھو بڑی کرامت ہے پر سمجھتے نہیں پنڈت لیکھرام میرے مالک تو ان کو خود سمجھا سے یہ شامت ہے آسماں سے پھر اک نشان دکھلا (آمین) تازہ نشان کی پیشگوئی خدا فرماتا ہے کہ میں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیم ہو گی وہ عام دنیا کے لئے ایک نشان ہوگا اور خدا کے ہاتھوں سے اور آسمان سے ہوگا۔ چاہیے کہ ہر ایک آنکھ اس کی منتظر رہے کیونکہ خدا اس کو عنقریب ظاہر کرے گا تا وہ یہ گواہی دے کہ یہ عاجز جس کو تمام قو میں گالیاں دے رہی ہیں اُس کی طرف سے ہے۔ مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھا دے۔ آمین احمد مسیح موعود المشتهر ميرزا غلام احمد ۔