قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 174

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۷۲ لیکچر لاہور ۲۶ بر خلاف ہے کیونکہ جب ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ کسی کی ماں فوت ہو جاتی ہے اور کسی کی ہمشیرہ اور کسی کی پوتی تو پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ اس عقیدہ کے قائل اس غلطی میں مبتلا نہ ہو جائیں کہ ایسی جگہ نکاح کر لیں جہاں نکاح کرنا وید کی رو سے حرام ہے۔ ہاں اگر ہر ایک بچہ کے ساتھ اُس کے پیدا ہونے ۔ ونے کے وقت میں ایک لکھی ہوئی فہرست بھی ہمراہ ہو جس : بھ ہوجس میں بیان کیا گیا ہو کہ وہ پہلی جون میں فلاں شخص کا بچہ تھا تو اس صورت میں نا جائز نکاح سے بچ سکتے تھے۔ مگر پر میشر نے ایسا نہ کیا ۔ گویا نا جائز طریق کو خود پھیلانا چاہا۔ پھر ماسوا اس کے ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ اس قدر جونوں کے چکر میں ڈالنے سے فائدہ کیا ہے۔ اور جب کہ تمام مدار نجات اور مکتی کا گیان یعنی معرفت الہی پر ہے تو یوں چاہیے تھا کہ ہر ایک بچہ جو دوبارہ جنم لیتا پہلا ذخیرہ اس کے گیان اور معرفت کا ضائع نہ ہوتا لیکن ظاہر ہے کہ ہر ایک بچہ جو پیدا ہوتا ہے خالی کا خالی دنیا میں آجاتا ہے اور ایک آوارہ اور فضول خرچ انسان کی طرح تمام پہلا اندوختہ برباد کر کے مفلس نادار کی طرح منہ دکھاتا ہے۔ اور گو ہزار مرتبہ اس نے وید مقدس کو پڑھا ہو ایک ورق بھی وید کا یاد نہیں رہتا ۔ پس اس صورت میں جونوں کے چکر کے رو سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ ذخیرہ گیان اور علم کا جو ہزار مصیبت سے ہر ایک جون سے جمع کیا جاتا ہے وہ ساتھ ساتھ برباد ہوتا رہتا ہے نہ کبھی محفوظ رہے گا اور نہ نجات ہوگی ۔ اول تو حضرات آریہ کے اصولوں کے رُو سے نجات ہی ایک محدود میعاد تھی ۔ پھر اُس پر یہ مصیبت کہ سرمایہ نجات کا یعنی گیان جمع ہونے نہیں پاتا ۔ یہ بد قسمتی روحوں کی نہیں تو اور کیا ؟ دوسرا امر جو مخلوق کی پاکیزگی کے مخالف آریہ صاحبوں کے عقائد میں داخل ہے وہ نیوگ کا مسئلہ ہے۔ میں اس مسئلہ کو وید مقدس کی طرف منسوب نہیں کرتا بلکہ اس خیال سے میرا دل کا نپتا ہے کہ میں اس قسم کی باتوں کو وید کی طرف منسوب کروں ۔ جہاں تک میرا علم اور کانشنس ہے میں یقین کرتا ہوں کہ انسانی فطرت ہرگز قبول نہیں کرے گی کہ ایک شخص اپنی پاکدامن بیوی کو جو خاندان اور عزت رکھتی ہے محض بچہ لینے کی خاطر سے دوسرے سے ہم بستر کراوے۔