قادیان کے آریہ اور ہم — Page 164
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۶۲ لیکچر لاہور لے آوے اور وہی ہے جو گناہ کو چھوڑ سکتا ہے۔ اور خدا کی محبت میں محو ہو سکتا ہے۔ پس جس دل میں یہ خواہش اور یہ طلب نہیں کہ خدا کا مکالمہ اور مخاطبہ یقینی ور مخاطبہ یقینی طور پر اُس کو نصیب ہو وہ ایک مر مردہ دل ہے اور جس دین میں یہ قوت نہیں کہ اس کمال تک پہنچادے اور اپنے سچے پیروؤں کو خدا کا ہم کلام بنا دے وہ دین منجانب اللہ نہیں اور اس میں راستی کی روح نہیں۔ ایسا ہی جس کسی نبی نے اس راہ کی طرف لوگوں کو نہیں چلایا کہ خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ کے طالب ہوں اور کامل معرفت کے خواہاں ہوں ۔ وہ نبی بھی خدا کی طرف سے نہیں ہے اور وہ خدا پر افترا کرتا ہے کیونکہ انسان کا عظیم الشان مقصود جس سے وہ گناہوں سے نجات پاسکتا ہے۔ یہی ہے کہ خدا کی ہستی اور اس کی سزا جزا پر اس کو پورا یقین آوے مگر اس غریب الغیب خدا پر کیونکر یقین حاصل ہو جب تک اس کی طرف سے انا الموجود کی آواز نہ سنی جاوے اور جب تک کہ انسان اس کی طرف سے کھلے کھلے نشان مشاہدہ نہ کرے ؟ ن مشاہدہ ا نہ کرے کیونکر اس کی ہستی پر یقین کامل آوے۔ عقلی دلائل سے خدا کے وجود کا پتہ لگا نا صرف اس حد تک ہے کہ عقل سلیم زمین اور آسمان اور ان کی ترتیب ابلغ اور محکم کو دیکھ کر یہ تجویز کرتی ہے کہ ان مصنوعات پر حکمت کا کوئی صانع ہونا چاہیے مگر یہ دکھلا نہیں سکتے کہ فی الحقیقت صانع ہے بھی اور ظاہر ہے کہ ہونا چاہیے صرف ایک خیال ہے اور ہے ایک امر واقعہ کا ثبوت ہے۔ اور دونوں میں فرق کھلا کھلا ہے یعنی پہلی صورت میں صرف ضرورت صانع بتلائی گئی ہے اور دوسری صورت میں اُس کے فی الواقع موجود ہونے کی شہادت دی جاتی ہے۔ غرض اس زمانہ میں کہ مذاہب کی باہمی کشاکش کا ایک تند و تیز سیلاب چل رہا ہے۔ طالب حق کو اس اصل مقصود کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ مذہب وہی سچا ہے جو یقین کامل کے ذریعہ سے خدا کو دکھلا سکتا ہے اور درجہ مکالمہ مخاطبہ الہیہ تک پہنچا سکتا ہے اور خدا کی ہم کلامی کا شرف بخش سکتا ہے اور اس طرح اپنی روحانی قوت اور روح پرور خاصیت سے دلوں کو گناہ کی تاریکی سے چھڑا سکتا ہے اور اس کے سوا سب دھوکہ دینے والے ہیں ۔