قادیان کے آریہ اور ہم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 597

قادیان کے آریہ اور ہم — Page 148

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۱۴۶ لیکچر لاہور آج پر چه پیسه اخبار ۲۷ را گست ۱۹۰۴ء کے پڑھنے سے مجھے معلوم ہوا که حکیم مرزا محمود نام ایرانی لاہور میں فروکش ہیں وہ بھی ایک مسیحیت کے مدعی کے حامی ہیں ۔ دعوی کرتے ہیں اور مجھ سے مقابلہ کے خواہشمند ہیں۔ میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے اس قدر شدت کم فرصتی ہے کہ میں اُن کی اس درخواست کو قبول نہیں کر سکتا کیونکہ کل ہفتہ کے روز جلسہ کا دن ہے جس میں میری مصروفیت ہوگی اور اتوار کے دن علی الصباح مجھے گورداسپور میں ایک مقدمہ کے لئے جانا جو عدالت میں دائر ہے ضروری ہے۔ میں قریباً بارہ دن سے لاہور میں مقیم ہوں ۔ اس مدت میں کسی نے مجھ سے ایسی درخواست نہیں کی اب جبکہ میں جانے کو ہوں اور ایک منٹ بھی مجھے کسی اور کام کے لئے فرصت نہیں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس بے وقت کی درخواست سے کیا مطلب اور کیا غرض ہے لیکن تاہم میں حکیم مرز امحمود صاحب کو تصفیہ کے لئے ایک اور صاف راہ بتلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ کل ۳ رستمبر کو جو جلسہ میں میرا مضمون پڑھا جائے گا وہ مضمون ایڈیٹر صاحب پیسہ اخبار اپنے پرچہ میں تمام و کمال شائع کر دیں ۔ حکیم صاحب موصوف ۔ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس مضمون کے مقابلہ میں اُسی اخبار میں اپنا مضمون شائع کرادیں اور پھر خود پبلک ان دونوں مضمونوں کو پڑھ کر فیصلہ کرلے گی کہ کسی شخص کا مضمون راستی پر اور سچائی اور دلائل قویہ پر بنی ہے۔ اور کسی شخص کا مضمون اس مرتبہ سے گرا ہوا ہے۔ میری دانست میں یہ طریق فیصلہ ان بد نتائج سے بہت محفوظ ہوگا جو آج کل زیادہ مباحثات سے متوقع ہے بلکہ چونکہ اس طرز میں روئے کلام حکیم صاحب کی طرف نہیں اور نہ اُن کی نسبت کوئی تذکرہ ہے اس لئے ایسا مضمون اُن رنجشوں سے بھی برتر ہوگا جو باہم مباحثات سے کبھی کبھی پیش آجایا کرتے ہیں۔ والسلام منہ الراقم میرزا غلام احمد قادیانی