قادیان کے آریہ اور ہم — Page 79
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۷۹ تذكرة الشهادتين اب مختصر کلام یہ ہے کہ علاوہ لنگر خانہ اور میگزین کے جو انگریزی اور اُردو میں نکلتا ہے جس کے لئے اکثر دوستوں نے سرگرمی ظاہر کی ہے ایک مدرسہ بھی قادیان میں کھولا گیا ہے۔ اس ﴿۷۷﴾ سے یہ فائدہ ہے کہ نو عمر بچے ایک طرف تو تعلیم پاتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے سلسلہ کے اصولوں سے واقفیت حاصل کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح پر بہت آسانی سے ایک جماعت طیار ہو جاتی ہے بلکہ بسا اوقات اُن کے ماں باپ بھی اس سلسلہ میں داخل ہو جاتے ہیں لیکن ان دنوں میں ہمارا یہ مدرسہ بڑی مشکلات میں پڑا ہوا ہے اور باوجود یکہ محبی عزیزی اخویم نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اپنے پاس سے اسی روپیہ ماہوار اس مدرسہ کی مدد کرتے ہیں مگر پھر بھی اُستادوں کی تنخواہیں ماہ بماہ ادا نہیں ہو سکتیں صد ہا روپیہ قرضہ سر پر رہتا ہے۔ علاوہ اس کے مدرسہ کے متعلق کئی عمارتیں ضروری ہیں جواب تک طیار نہیں ہوسکیں۔ یہ غم علاوہ اور غموں کے میری جان کو کھا رہا ہے۔ اس کی بابت میں نے بہت سوچا کہ کیا کروں آخر یہ تدبیر میرے خیال میں آئی کہ میں اس وقت اپنی جماعت کے مخلصوں کو بڑے زور کے ساتھ اس بات کی طرف توجہ دلاؤں کہ وہ اگر اس بات پر قادر ہوں کہ پوری توجہ سے اس مدرسہ کے لئے بھی کوئی ماہانہ چندہ مقرر کریں تو چاہیے کہ ہر ایک اُن میں سے ایک مستحکم عہد کے ساتھ کچھ نہ کچھ مقرر کرے جس کے لئے وہ ہرگز تخلف نہ کرے مگر کسی مجبوری سے جو قضاء وقدر سے واقع ہو اور جو صاحب ایسا نہ کر سکیں ان کے لئے بالضرورت یہ تجویز سوچی گئی ہے کہ جو کچھ وہ لنگر خانہ کے لئے بھیجتے ہیں اس کا چہارم حصہ براہ راست مدرسہ کے لئے نواب صاحب موصوف کے نام بھیج دیں ۔ لنگر خانہ میں شامل کر کے ہرگز نہ بھیجیں بلکہ علیحدہ منی آرڈر کرا کر بھیجیں ۔ اگر چہ لنگر خانہ کا فکر ہر چ لنگر خانہ کا فکر ہر روز مجھے کرنا پڑتا ہے اور اس کا غم براہ راست میری طرف آتا ہے اور میری اوقات کو مشوش کرتا ہے لیکن یہ غم بھی مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ اس لئے میں لکھتا ہوں کہ اس سلسلہ کے جوانمرد لوگ جن سے میں ہر طرح امید رکھتا ہوں کہ وہ میری اس التماس کو ردی کی طرح نہ پھینک دیں اور پوری توجہ سے اس پر کار بند ہوں ۔ میں اپنے نفس سے کچھ نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ میرے دل میں ڈالتا ہے ۔ میں نے خوب سوچا ہے اور بار بار مطالعہ کیا ہے میری دانست میں اگر یہ مدرسہ قادیان کا قائم رہ جائے تو بڑی برکات کا موجب ہوگا اور اُس کے ذریعہ سے ایک فوج نئے تعلیم یافتوں کی ہماری طرف آسکتی ہے اگر چہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اکثر طالب علم ۷۸