پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 548

پُرانی تحریریں — Page 55

روحانی خزائن جلد ۲ by پرانی تحریریں احسن الخالقین ہے اور اسی طرح خدا فاطر السموات والارض ہے جو ان کو عدم سے وجود بخشا ہے۔ پھر اگر وجود خدا نہ ہو تو دروازہ تمام خیرات کا بند ہو جاتا ہے کیونکہ تمام لوگ اس طرح خیرات کرتے ہیں کہ اس خیرات کے دینے سے ہمارا فائدہ ہے اور کوئی شخص بلا لحاظ فائدہ نقصان کے کوئی کام نہیں کر سکتا بلکہ ایسا کام اس کی نظر میں محض عبث ٹھہرتا ہے اسی طرح وجود خدا نہ ماننے والا بدی سے ڈر نہیں سکتا کیونکہ بدی اسی لحاظ سے بدی ہوتی ہے کہ اس کا بد نتیجہ ہے اگر اس کا نتیجہ بد نہ کہا جائے تو پھر ہرگز دل اس کو بد نہیں خیال کر سکتا۔ پھر اگر بدی کرنے میں کسی کا خوف نہ ہو تو پھر بدی کرنے سے کون مانع ہے اور اگر کہو کہ بادشاہ اور حاکم مانع ہیں ہم کہتے ہیں کہ بادشاہوں اور حاکموں کو کون مانع ہے۔ جو شخص صاحب قدرت ہے اس کو کسی کا خوف ہے علاوہ اس کے حاکم اور بادشاہ ہر وقت حاضر ناظر نہیں ہوتے اور نہ انسان خیال کرتا ہے کہ وہ میرے کاموں کو ہر وقت دیکھتے ہیں۔ اور یہ جو کہتے ہیں کہ ہم زمین و آسمان کے صانع کو نہیں دیکھتے اس واسطے اس پر ایمان نہیں لاتے ۔ یہ ان کی صاف شرارت ہے کیونکہ اگر اس دنیا میں صانع دیکھا جاتا تو پھر یہ دنیا دنیا نہ رہتی اور نہ کسی کو نیک کام کرنے میں ثواب ہوتا اس واسطے کہ ثواب اسی وقت تک ہے کہ جب آدمی تقوی اختیار کر کے بحالت پوشیدگی خدا کے اوپر ایمان لاوے اور اگر خدا اپنی ذات کو خود بخود ظاہر کرے تو پھر اس کا ثواب کیا ۔ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ یعنی یہ کتاب ان متقیوں کے لئے ہدایت ہے کہ خدا پر حالت پوشیدہ ہونے اس کی میں اس پر ایمان لاتے ہیں۔ البقرة : ٢٣ دوسری دلیل وجود خدا تعالیٰ پر یہ ہے کہ تمام مخلوقات کے خیالات کا اسی پر اتفاق