پُرانی تحریریں — Page 52
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶ و پرانی تحریریں کی طرف نظر کرتے جاؤ تو دنیا کا کتنا ثابت ہوتا ہے اور انتہا اس سے ثابت ہوا کہ زمین ایک میدان محدود ہے غیر محدود پیدائش کی گنجائش نہیں رکھتا ۔ تو نا چار کسی دن اس دنیا کا خاتمہ ہے پس جس چیز کا ابتدا اور انتہا ہے وہ چیز مصنوعی ہے قدیمی نہیں رہ سکتی اور جب مصنوعی ہوئی تو اس کا ایک صانع مانا پڑا اور وہ خدا ہے۔ اگر یہ کہو کہ بعض خاندان میں کثرت اولاد نہیں اُتنے کے اُتنے رہتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک عارضہ ہے ورنہ تجربہ سے ثابت ہے کہ ایک بکری آدمی خریدتا ہے تو اس کا ریوڑ بن جاتا ہے اور یہ ایک قاعدہ ہے کہ دنیا میں طبعی موت ساٹھ ستر برس کے بعد آتی ہے اور پرورش پندرہ برس کے بعد شروع ہو جاتی ہے اور اس پر صاف دلیل یہ ہے کہ جو جزیرے پہلے آباد نہ تھے وہ اب آباد ہیں۔ دوسری دلیل وجود واجب الوجود پر یہ ہے کہ کوئی مصنوع بغیر صانع کے نظر نہیں آتا اور ایک چھوٹا سا کوٹھا بغیر بنانے والے کے بن نہیں سکتا۔ پھر اتنا بڑا کوٹھا کہ جس کے فرش کا محیط چوبیس ہزار میل سے زیادہ ہے اور جس کی سقف کمال صفا کمال صفائی سے محکم طور پر بنائی گئی ہے اور جس کے اوپر چراغ رکھے ہیں کہ تا روشنی بخشیں اور ایسی ترتیب ہے کہ ایک کو سب سے اعلیٰ بنایا ہے اور باقی کو روشن تابع مقرر کیا ہے کس طرح بغیر بنانے والے کے خود بخود بن گیا۔ اس جگہ دہر یہ یہ سوال کرتے ہیں کہ دنیا کے کوٹھوں کو بنانے والوں کو ہم بچشم خود دیکھتے ہیں لیکن آسمان زمین بنانے والا ہم کو نظر نہیں آتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کوٹھا بنانے والا نظر آتا ہو تو دلیل پکڑنے کی کیا حاجت تھی دلیل تو اسی جگہ پکڑی جاتی ہے کہ جب ایک شے کا وجود بغیر اس کے نظر آنے کے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ دیکھو مصر میں ایسی ایسی قدیم