پُرانی تحریریں — Page 46
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶ پرانی تحریریں اور گھوڑا اور درخت کہ جو ہر اور صاحب العباد ثلاثہ اور قوت نامیہ ہونے میں یہ تینوں ۳۷ شریک ہیں اور حساس اور متحرک بالا رادہ ہونے میں انسان اور گھوڑا مشارکت رکھتے ہیں لیکن ماہیت تامہ ہر ایک کی جدا جدا ہے ۔ غرض یہ صفت عارضی ممکنات کی حقیقت تامہ پر زائد ہے جس میں کبھی تشارک اور کبھی تغائر ان کا ہو جاتا ہے اور با وصف مختلف الحقائق اور متغائر الماہیت ہونے کے کبھی کبھی بعض مشارکات میں ایک جنس کے تحت میں داخل ہو جاتے ہیں بلکہ کبھی ایک حقیقت کے لئے ایک اجناس ہوتے ہیں اور یہ بھی کچھ سمجھا کہ کیوں ایسا ہوتا ہے یہ اس واسطے ہوتا ہے کہ ترکیب مادی ان کی اصل حقیقت اُن کے پر زائد ہے اور سب کی ترکیب مادی کا ایک ہی استنفس یعنی اصل ہے اب آپ پر ظاہر ہوگا کہ یہ تشارك ممکنات کا خصائص ذاتیہ میں تشارک نہیں بلکہ عوارض خارجیہ میں اشتراک ہے۔ باطنی آنکھ انسان کی جس کو بصیرت قلبی ( این لاین منٹ ) کہتے ہیں دوسرے حیوانات میں ہرگز نہیں پائی جاتی ۔ اخیر میں باوا صاحب اپنے خاتمہ جواب میں یہ بات کہہ کر خاموش ہو گئے ہیں کہ سب دلائل معترض کے تو ہمات ہیں قابل تردید نہیں ۔ اس کلمہ سے زیرک اور ظریف آدمیوں نے فی الفور معلوم کر لیا ہو گا کہ با وا صاحب کو یہ لفظ کیوں کہنا پڑا۔ بات یہ ہوئی کہ اوّل تو ہمارے معزز دوست جناب با وا صاحب جواب دینے کی طرف دوڑے اور جہاں تک ہو سکا ہاتھ پاؤں مارے اور کو دے اُچھلے لیکن جب اخیر کو کچھ پیش نہ گئی اور عقدہ لا نخل معلوم ہوا تو آخر ہانپ کر بیٹھ گئے اور یہ کہہ دیا کہ کیا تردید کرنا ہے یہ تو تو ہمات ہیں لیکن ہر عاقل جانتا ہے کہ جن دلائل کی مقدمات یقینیہ پر بنیاد ہے وہ کیوں تو ہمات ہو گئے ۔اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں اور آئندہ بلا ضرورت نہیں لکھیں گے۔ راقم مرزاغلام احمد رئیس قادیان سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” ابعاد “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)