پُرانی تحریریں — Page 482
۲۲ روحانی خزائن جلد ۲ ۴۶۸ سبز اشتهار کے لئے یہ نہایت دل توڑنے والا واقعہ ہوگا۔ میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ یہی ایک روحانی اور اعلیٰ درجہ کی اسلام میں خاصیت ہے کہ سچائی سے اس پر قدم مارنے والے مکالمات خاصہ الہیہ سے مشرف ہو جاتے ہیں اور قبولیت کے انوار جن میں ان کا غیر ان کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا ان کے وجود میں پیدا ہو جاتے ہیں یہ ایک واقعی صداقت ہے جو بے شمار راست بازوں پر اپنے ذاتی تجارب سے کھل گئی ہے ان مدارج عالیہ پر وہ لوگ پہنچتے ہیں کہ جو سچی اور حقیقی پیروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کرتے ہیں اور نفسانی وجود سے نکل کر ربانی وجود کا پیراہن لیتے ہیں یعنی نفسانی جذبات پر موت وارد کر کے کے ربانی طاعات کی نئی زندگی اپنے اندر حاصل کرتے ہیں ناقص الحالت مسلمانوں کو ان سے کچھ نسبت نہیں بقیه حاشيه بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی پر ٹھو کر کھائی کہ یہ شخص تو کہتا تھا کہ فرعون پر عذاب نازل ہو گا سو اس پر تو کچھ عذاب نازل نہ ہوا وہ عذاب تو ہم پر ہی پڑا کہ اس سے پہلے صرف آدھا دن ہم سے مشقت لی جاتی تھی اور اب سارا دن محنت کرنے کا حکم ہو گیا ۔ خوب نجات ہوئی حالانکہ یہ دوہری محنت اور مشقت ابتلاء کے طور پر یہودیوں پر ابتداء میں نازل ہوئی تھی اور انجام کار فرعون کی ہلاکت مقدر تھی مگر ان بیوقوفوں اور شتاب کاروں نے ہاتھ پر سرسوں جمتی نہ دیکھ کر اسی وقت حضرت موسیٰ کو جھٹلانا شروع کر دیا اور بدظنی میں پڑ گئے اور کہا کہ اے موسیٰ و ہارون جو کچھ تم نے ہم سے کیا خدا تم سے کرے۔ پھر یہودا اسکر یوتی کی نادانی اور شتاب کاری دیکھنی چاہیے کہ اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے سمجھنے میں نہایت سخت ٹھو کر کھائی اور خیال کیا کہ یہ شخص بادشاہ ہو جانے کا دعوی کرتا تھا اور ہمیں بڑے بڑے مراتب تک پہنچاتا تھا مگر یہ ساری باتیں جھوٹ نکلیں اور کوئی پیشگوئی اس کی سچی نہ ہوئی بلکہ فقر وفاقہ میں ہم لوگ مر رہے ہیں۔ بہتر ہے کہ اس کے دشمنوں سے مل کر پیٹ بھریں۔ سواس کی جہالت اس کی ہلاکت کا موجب ہوئی ۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئیاں اپنے وقتوں میں پوری ہو گئیں سونبیوں کا ان نادان مکذبین کی تکذیب سے کیا نقصان ہوا جس کا اب بھی اندیشہ کیا جائے اور اس اندیشہ سے خدائے تعالیٰ کی پاک کارروائی کو بند کیا جائے۔ یقیناً سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ مسلمان کہلا کر اور کلمہ گو ہو کر جلدی سے اپنے دل میں وساوس کا ذخیرہ اکٹھا کر لیتے ہیں۔ وہ انجام کار اسی طرح رسوا اور ذلیل ہونے والے ہیں جس طرح نالائق اور کج فہم یہودی اور یہودا اسکر یوتی رسوا اور ذلیل ہوئے ۔ فتدبر وا یا اولی الالباب منه