پُرانی تحریریں — Page 465
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۵۱ سبز اشتهار اور عمر پانے والا یہی لڑکا ہوگا ۔ تب بھی صاحبانِ بصیرت کی نظر میں یہ اجتہادی بیان ﴿۵﴾ ہمارا قابل اعتراض نہ ٹھہرتا کیونکہ ان کا منصفانہ خیال اور اُن کی عارفانہ نگاہ فی الفور انہیں سمجھا دیتی کہ یہ اجتہاد صرف چند ایسے ناموں کی صورت پر نظر کر کے کیا گیا ہے جو فی حد ذاتہ صاف اور گھلے گھلے نہیں ہیں بلکہ ذوالوجوہ اور تاویل طلب ہیں سوان کی نظر میں اگر یہ ایک اجتہادی غلطی بھی متصور ہوتی تو وہ بھی ایک ادنی درجہ کی اور نہایت کم وزن اور خفیف سی اُن کے خیال میں دکھائی دیتی کیونکہ ہر چند ایک غبی اور کور دل انسان کو خدا تعالیٰ کا وہ قانون قدرت سمجھانا بہت مشکل ہے جو قدیم سے اُس کے متشابہات وحی اور رویا اور کشوف اور الہامات کے متعلق ہے لیکن جو عارف اور با بصیرت آدمی ہیں وہ خود سمجھے ہوئے ہیں کہ پیش گوئیوں وغیرہ کے بارہ میں اگر کوئی اجتہادی غلطی بھی ہو جائے تو وہ محل نکتہ چینی نہیں ہو سکتی کیونکہ اکثر نبیوں اور اولو العزم رسولوں کو بھی اپنے مجمل مکاشفات اور پیشگوئیوں کی تشخیص و تعیین میں ایسی ہلکی ہلکی غلطیاں پیش آتی رہی ہیں اور اُن کے بیدار دل اور روشن ضمیر پیرو ہرگز اُن حاشیه توریت کی بعض عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بعض اپنی پیشگوئیوں کے سمجھنے اور سمجھانے میں اجتہادی طور پر غلطی کھائی تھی اور وہ اُمیدیں جو بہت جلد اور بلا توقف نجات یاب ہونے کے لئے بنی اسرائیل کو دی گئی تھیں وہ اس طرح پر ظہور پذیر نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے خلاف ان اُمیدوں کے صورت حال دیکھ کر اور دل تنگ ہو کر ایک مرتبہ اپنی کم ظرفی کی وجہ سے جو اُن کی طینت میں تھی کہہ بھی دیا تھا کہ اے موسیٰ و ہارون جیسا تم نے ہم سے کیا خدا تم سے کرے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دل تنگی اس کم ظرف قوم میں اسی وجہ سے ہوئی تھی کہ انہوں نے جو جلد مخلصی پا جانے کا اپنے دلوں میں حسب پیرا یہ تقریر موسوی اعتقاد کر لیا تھا اس طور پر معرضہ ظہور میں نہیں آیا تھا اور درمیان میں ایسی مشکلات پڑ گئیں تھیں جن کی پہلے سے بنی اسرائیل کو صفائی سے خبر نہیں دی گئی تھی اس کی یہی وجہ تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی ان درمیانی مشقتوں اور اُن کے طول کھینچنے کی ابتدا میں مصفا اور صاف طور پر خبر