پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 461 of 548

پُرانی تحریریں — Page 461

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۴۷ سبز اشتہار بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى حقانی تقریر بر واقعه وفات بشیر واضح ہو کہ اس عاجز کے لڑکے بشیر احمد کی وفات سے جو ے اگست ۱۸۸۷ء روز یکشنبہ میں پیدا ہوا تھا اور ۴ نومبر ۱۸۸۸ء کو اُسی روز یکشنبہ میں ہی اپنی عمر کے سولہویں مہینے میں بوقت نماز صبح اپنے معبود حقیقی کی طرف واپس بلایا گیا عجیب طور کا شور و غوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا اور رنگا رنگ کی باتیں خویشوں وغیرہ نے کیں اور طرح طرح کی نافہمی اور کج دلی کی رائیں ظاہر کی گئیں مخالفین مذہب جن کا شیوہ بات بات میں خیانت و افترا ہے انہوں نے اس بچے کی وفات پر انواع اقسام کی افترا گھڑنی شروع کی ۔ سو ہر چند ابتدا میں ہمارا ارادہ نہ تھا کہ اس پر معصوم کی وفات پر کوئی اشتہار یا تقریر شائع کریں اور نہ شائع کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ کوئی ایسا امر درمیان نہ تھا کہ کسی فہیم آدمی کے ٹھوکر کھانے کا موجب ہو سکے لیکن جب یہ شور و غوغا انتہا کو پہنچ گیا اور کچے اور ابلہ مزاج مسلمانوں کے دلوں پر بھی اس کا مضر اثر پڑتا ہوا نظر آیا تو ہم نے محض اللہ یہ تقریر شائع کرنا مناسب سمجھا ۔ اب ناظرین پر منکشف ہو کہ بعض مخالفین پسر متوفی کی وفات کا ذکر کر کے اپنے اشتہارات و اخبارات میں طنز سے لکھتے ہیں کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی نسبت اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء و ۸ ر ا پریل ۱۸۸۶ء اور ۷ را گست ۱۸۸۷ء میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی ۔ بعضوں نے اپنی طرف سے افتر ا کر کے یہ بھی حاشیه یه مفتری لیکھرام پشاوری ہے جس نے تینوں اشتہار مندرجہ متن اپنے اثبات دعوی کی غرض