پُرانی تحریریں — Page 21
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۱ پرانی تحریریں غور کر کے اور اپنے ذخیرہ کانشنس کو واقعات عالم سے مطابقت دے کر اپنی تحقیقات کو ایسے اعلیٰ پایہ صداقت پر پہنچادیا ہو کہ جس میں غلطی کا نکلنا غیر ممکن ہو۔ خود عاد تا غیرممکن ہو۔ اب بعد اس کے جس امر میں آپ بحث کر سکتے ہیں اور جس بحث کا آپ کو حق ۱۲ پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ بر خلاف ہمارے اس استقراء کے کوئی نظیر دے کر ہمارے اس استقرا کو توڑ دیں یعنے از روئے وضع مستقیم مناظرہ کے جواب آپ کا صرف اس امر میں محصور ہے کہ اگر آپ کی نظر میں ہمارا استقرا غیر صحیح ہے تو آپ بغرض ابطال ہمارے اس استقرا کے کوئی ایسا فرد کامل ارباب نظر اور فکر اور حدس میں سے پیش کریں کہ جس کی تمام راؤں اور فیصلوں اور حج منٹوں میں کوئی نقص نکالنا ہرگز ممکن نہ ہو اور زبان اور قلم اس کی سہو و خطا سے بالکل معصوم ہو ۔ تا ہم بھی تو دیکھیں کہ وہ در حقیقت ایسا ہی معصوم ہے یا کیا حال ہے۔ اگر معصوم نکلے گا تو بے شک آپ سچے اور ہم جھوٹے ورنہ صاف ظاہر ہے کہ جس حالت میں نہ خود انسان اپنے علم اور واقفیت سے غلطی سے بچ سکے اور نہ خدا ( جو رحیم اور کریم اور ہر ایک سہو و خطا سے مبرا اور ہر امر کی اصل حقیقت پر واقف ہے ) بذریعہ اپنے سچے الہام کے اپنے بندوں کی مدد کرے تو پھر ہم عاجز بندے کیونکر ظلمات جہل اور خطا سے باہر آویں او دیں اور کیونکر آفات نات شک و شبہ سے نجات پائیں ۔ لہذا میں مستحکم رائے سے یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ مقتضاء حکمت اور رحمت اور بندہ پروری اس قادر مطلق کا یہی ہے کہ وقتاً فوقتاً جب مصلحت دیکھے ایسے لوگوں کو پیدا کرتا رہے کہ عقائد حقہ کے جاننے اور اخلاق صحیحہ کے معلوم کرنے میں خدا کی طرف سے الہام پائیں اور تفہیم بعد ائیں اور تفہیم تعلیم کا ملکہ وہبی رکھیں تا کہ نفوس بشر یہ کہ سچی ہدایت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اپنی سعادت مطلوبہ سے محروم نہ رہیں ۔ راقم آپ کا نیاز مند غلام احمد عفی عنہ ۔ ۲۱ مئی ۱۸۷۹ء مکرمی جناب مرزا صاحب عنایت نامہ آپ کا بمعہ مضمون پہنچا۔ آپ نے الہام کی تعریف اور اس کی ضرورت کے بارے میں