پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 548

پُرانی تحریریں — Page 408

روحانی خزائن جلد ۲ له خالد شحنه حق مگر یہ پاک مسئلہ ویدوں کا ابھی تک ان کو بھی نہ سوجھا تھا کہ ذرہ ذرہ اپنی ہستی میں خدا سے بے نیاز اور قدامت میں اس سے برابر اور باعتبار وجودی انتشار کے اس سے بڑھ کر ہے ۔ یہ ویدک گیان دیانند ہی کے حصہ میں تھا ۔ دیکھو اب اس وید کے اصول میں کس قدر خرابیاں ہیں ۔ اول تو جب پرمیشر ہر یک چیز کا سہارا اور ہر یک ظہور کا مظہر اصلی نہ ہوا تو پھر کا ہے کا پرمیشر ہوا ۔ صرف کروڑ ہا قدیم وجودوں میں سے وہ بھی ایک وجو د ٹھہرا جو ان قدیمی باشندوں میں سے صرف ایک باشندہ ہے ۔ دوسری بڑی بھاری یہ خرابی کہ وجودی انتشار کے لحاظ سے وہ بے شمار روحوں کے مقابل پر ایک ذرہ کی طرح ٹھہرا کیونکہ بلا شبہ د و قدیم الوجود کا وجودی انتشار ایک قدیم سے بہت زیادہ ہوتا ہے پس جبکہ کروڑ ہا روحیں جن کا شمار اسی خالق کو معلوم ہے وید کے رو سے قدیم اور واجب الوجود ٹھہریں تو پر میشر بیچارہ کا وجود ان بے شمار قدیم وجودوں کے آگے کیا ہستی اور حقیقت رکھتا ہے ۔ بلا شبہ بہت سے قدیم وجودوں کا وجودی ۵۲ انتشار ایک وجود سے اس قدر زیادہ ہوگا کہ اس کو کچھ بھی ان سے نسبت نہیں ہو گی ۔ تیسری بڑی شنیع خرابی یہ ہے کہ جب پرمیشر کی روح اور دوسری تمام روحیں قدامت اور واجب الوجود ہونے میں ایک ہی خصلت اور سیرت اور خاصیت رکھتے ہیں تو وہ خواہ نخواہ متحد الحقیقت بھی ہوں گے لیکن ☆ فٹ نوٹ ☆ ویدوں میں اس بات کا بہت تذکرہ ہے کہ پر میشر کی روح اور دوسری چیزوں کی روح متحد الحقیقت ہیں ۔ چناچہ میجر وید میں ایک شرتی یہ ہے منش کی آ تما ( روح ) کہتی ہے کہ وہ پرمیشر جو سورج میں ہے میں ہی ہوں ۔ دیکھو یجز وید