پُرانی تحریریں — Page 16
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۶ پرانی تحریریں ضروری ہے خود ثبوت صغری سے ثابت ہوتا ہے اور نیز ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ میں قدرت ضرور یہ تامہ نہ ہو تو پھر قدرت اس کی بعض اتفاقی امور کے حصول پر موقوف ہوگی ۔ اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں عقل تجویز کر سکتی ہے کہ اتفاقی امور وقت پر خدائے تعالیٰ کو میسر نہ ہوسکیں کیونکہ وہ اتفاقی ہیں۔ ضروری نہیں ۔ حالانکہ تعلق پکڑنا روح کا جنین کے جسم سے بر وقت طیاری جسم اس کے کے لازم ملزوم ہے۔ پس ثابت ہوا کہ فعل خدائے تعالیٰ کا بطور قدرت تامہ کے ضروری ہے اور نیز اس دلیل سے ضرورت قدرت تامہ کی خدائے تعالیٰ کے لئے واجب ٹھہرتی ہے کہ بموجب اصول متقررہ فلسفہ کے ہم کو اختیار ہے کہ یہ فرض کریں کہ مثلاً ایک مدت تک تمام ارواح موجودہ ابدان متناسبہ اپنے سے متعلق ہیں ۔ پس جب ہم نے یہ امر فرض کیا تو یہ فرض ہمارا اس دوسرے فرض کو بھی مستلزم ہو گا کہ اب تا انقضائے اس مدت کے ان جنینوں میں جو رحموں میں طیار ہوئے ہیں کوئی روح داخل نہیں ہوگا ۔ حالانکہ جنینوں کا بغیر تعلق روح کے معطل پڑے رہنا بہ بداہت عقل باطل ہے۔ پس جو امر مستلزم باطل ہے وہ بھی باطل ۔ پس ثبوت متقدمین سے یہ نتیجہ ثابت ۱۲﴾ ہو گیا کہ خدائے تعالیٰ کے لئے صفت ربوبیت تامہ کی ضروری ہے اور یہی مطلب تھا۔ دلیل ششم : قرآن مجید میں بمادہ قیاس مرکب قائم کی گئی ہے اور قیاس مرکب کی یہ تعریف ہے کہ ایسے مقدمات سے مؤلف ہو کہ ان سے ایسا نتیجہ نکلے کہ اگر چہ وہ نتیجہ خود بذا تہ مطلب کو ثابت نہ کرتا ہولیکن مطلب بذریعہ اس کے اس طور سے ثابت ہو کہ اسی نتیجہ کو کسی اور مقدمہ کے ساتھ ملا کر ایک دوسرا قیاس بنایا جائے ۔ پھر خواہ نتیجه مطلوب اسی قیاس دوم کے ذریعہ سے نکل آوے یا اور کسی قدر اسی طور سے قیاسات بنا کر مطلوب حاصل ہو۔ دونوں صورتوں میں اس قیاس کو قیاس مرکب کہتے ہیں۔ اور آیت شریف جو اس قیاس پر متضمن ہے یہ ہے دیکھو سورة البقرة الجزء اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لا یعنی البقرة : ۲۵۶