پُرانی تحریریں — Page 6
روحانی خزائن جلد ۲ ۶ پرانی تحریریں کمالات ان کی ذات سامی میں پوشیدہ ہیں منصہ ظہور میں لاویں ورنہ عوام کالانعام کے سامنے دم زنی کرنا صرف ایک لاف گزاف ہے اس سے زیادہ نہیں ۔ اب میں ذیل میں مضمون موعودہ لکھتا ہوں ۔ مضمون ابطال تناسخ و مقابلہ فلسفہ وید و قرآن جس کے طلب جواب میں صاحبان فضلاء آریہ سماج یعنی پنڈت کھڑک سنگھ صاحب۔سوامی پنڈت دیانند صاحب۔ جناب با وا نرائن سنگھ صاحب۔ جناب منشی جیوند اس صاحب۔ جناب منشی کنھیالال صاحب۔ جناب منشی بختاور سنگھ صاحب ایڈیٹر آریہ در پن۔ جناب بابو ساردا پرشاد صاحب۔ جناب منشی شرم پت صاحب سکرتری آریہ سماج قادیاں جناب منشی اندرمن صاحب مخاطب ہیں بوعدہ انعام پانسور و پیہ۔ آریا صاحبان کا پہلا اصول جو مدار تناسخ ہے یہ ہے جو دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں اور سب ارواح مثل پر میشر کے قدیم اور انادی ہیں اور اپنے اپنے وجود کے آپ ہی پرمیشر ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اصول غلط ہے اور اس پر تناسخ کی پڑی جمانا بنیاد فاسد بر فاسد ہے قرآن مجید کہ جس پر تمام تحقیق اسلام کی معنی ہے اور جس کے دلائل کو پیش کرنا بغرض مطالبہ دلائل وید اور مقابلہ باہمی فلسفہ مندرجہ وید اور قرآن کے ہم وعدہ کر چکے ہیں۔ ضرورت خالقیت باری تعالیٰ کو دلائل قطعیہ سے ثابت کرتا ہے چنانچہ وہ دلائل یہ تفصیل ذیل ہیں :۔ دلیل اوّل جو برہان لیمی ہے یعنی علت سے معلول کی طرف دلیل گئی ہے۔ دیکھو سورہ رعد الجز و ١٣ - اللهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ - یعنی خدا ہر ایک چیز کا خالق ہے کیونکہ وہ اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے اور واحد بھی ایسا کہ قہار ہے یعنی سب چیزوں کو اپنے ماتحت رکھتا ہے اور ان پر غالب ہے۔ یہ دلیل بذریعہ شکل اول جو بدیہی الانتاج ہے اس طرح پر قائم ہوتی ہے کہ صغری اس کا یہ ہے جو خدا الرعد : ۱۷