پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 548

پُرانی تحریریں — Page 178

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۶۶ سرمه چشم آریه ہو چکیں ۔ قدرت ربانی تو اسی کا نام ہے کہ عقل انسانی اس کے اسرار تک نہ پہنچ سکے۔ اگر ہم تم الہی قدرتوں کے تمام و کمال حقیقت پر احاطہ کر سکتے ہیں تو گویا ہم نے خدا پر ہی احاطہ کر لیا۔ اے عقل کے نو خریدار و آریو ؟ تم کیوں بے فائدہ ان مسائل کے ساتھ سر ٹکراتے ہو جو تمہارے ذہن کی رسائی سے اونچے ہیں۔ ہم اگر عقلمند ہیں تو ہماری عقلمندی یہی ہے کہ ہم خدائے تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں صرف اتنا کریں کہ کلی طور پر اس بات کو تحقیق کر کے دیکھ لیں کہ آیا خدائے تعالیٰ کے ان کاموں پر نظر کر کے جو اب تک اس نے کئے ہیں اس بات کا ثبوت پایا جاتا ہے یا نہیں کہ اس کے عجائب کام اور اس کی غرائب قدرت ہماری عقول ناقصہ کے دائرہ سے باہر ہیں اور جس طور سے اس کی ربوبیت اور لا یدرک طاقت نے صرف اوقات وحاجت انصار و آلات سے غنی اور بے نیاز ہوکر یہ عالم بنا ڈالا ہے اس طرف خیال دوڑانے سے ہماری عقلوں کے پر جلتے ہیں سو ہماری دانشوری یہی ہے کہ ہم اسی کلی طور کی تحقیق سے سبق حاصل کر لیں اور جزئیات عالم کے ان پیچ در پیچ رازوں کو جو ہمارے اندازہ عقل اور فہم سے بالا تر ہیں حل کرنے کے لئے اپنے تیں نا پیدا کنار سمندر میں ڈال کر ہلاک نہ کریں ۔ بعض اشخاص یہ کہا کرتے ہیں کہ اگر عقل ہماری اسرار قدرت کو ( جو ماخذ علم و حکمت ہیں ) سمجھ نہیں سکتی تو پھر وہ کس کام کی ہے اور جا بجا ہم قدرت پر ہی ایمان لاکر اور فکر کو معطل چھوڑ کر علوم حکم یہ کیونکر حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ ان کو سمجھ کا پھیر لگا ہوا ہے۔ تقریر مذکورہ بالا سے ہمارا یہ مطلب ہرگز ہر گز نہیں ہے کہ بکلی تحقیق و تفتیش سے مونہہ پھیر کر ہر جگہ آمنا و صدقنا پر ہی کفایت کرنی چاہیے اور نظر اور فکر کو کہیں اور کسی جگہ کام میں نہیں لانا چاہیے بلکہ ہمارا مطلب و مدعا یہ ہے کہ ایسے امور کی موشگافی اور تہ بینی کی امید سے اپنی عقلوں اور فکروں کو آوارہ مت کرو جو تمہاری بساط سے باہر ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ بہتیرے ایسے لوگ ہیں کہ ناجائز فکروں میں پڑ کر اپنی اس معین اور مقرر وسعت سے