پُرانی تحریریں — Page 161
روحانی خزائن جلد ۲ دیتے ہیں۔ ۱۴۹ سرمه چشم آریہ اے ز تعلیم وید آواره منکر از فیض بخش ہموارہ آں قدیرے کہ نیست زوچارہ نزد تو عاجز ست و ناکاره بشنوی گر بود بحق روئے شور قَالُوا بلی زہر سوئے آنکه با ذات او بقا و حیات چون نباشد بدیع ما آں ذات ناتوانی ست طور مخلوقات کے خدا ایں چنیں بود بیئات کے پسند و خرد کہ رب قدیر ناتواں باشد وضعیف و حقیر نظرے کن بشان ربانی داوری با مکن بنادانی اینچه دین است و اینچه آئین ست که خدا نا توان و مسکین است گر بدیں دین و کیش هستی شاد مایه عمر را دہی برباد قوله - مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ (آریہ سماج والوں کے اعتقاد کے رو سے ) مکتی شدہ شخص مکتی خانہ سے نکالا جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ آریہ سماج کے اصولوں کے موافق کوئی مکتی خانہ علیحدہ عمارت نہیں ۔ اقول سبحان اللہ کیا عمدہ جواب ہے ۔ اعتراض تو یہ تھا کہ روحوں کو انا دی اور قدیم اور پر میشر کی طرح واجب الوجود اور غیر مخلوق ماننے سے پر میشر ایسا کمزور اور مجبور ٹھہر جاتا ہے کہ وہ کسی طرح روحوں کو دائمی نجات دینے پر قادر نہیں ہو سکتا گو ارادہ بھی کرے۔ کیونکہ دائمی نجات دینے سے اس کی خدائی کا سلسلہ دور ہوتا ہے آپ اس کا جواب دیتے ہیں کہ مکتی خانہ کوئی علیحدہ عمارت نہیں جس سے نکالا جائے ۔ ناظرین سوچ سکتے ہیں کہ یہ کس قسم کا جواب ہے جس حالت میں آریوں کا بالاتفاق یہ اصول ہے کہ ہمیشہ کے لئے کسی کی مکتی نہیں ہو سکتی کوئی اوتار ہو یا رشی ہو یا منی ہو بلکہ کچھ مدت تک نجات دے کر پھر اس دارالنجات سے دارالتناسخ کی طرف بھیجے جاتے ہیں اور مختلف جونوں میں گردش کرتے کرتے کیڑوں مکوڑوں تک نوبت پہنچتی ہے تو پھر کیا یہ اصول ماسٹر صاحب کو یاد نہیں یا دانستہ لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں اور اگر ماسٹر صاحب کو لفظی نزاع کے طور پر یہ اعتراض ہے کہ مکتی خانہ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ کیا کوئی