پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 548

پُرانی تحریریں — Page 155

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۴۳ سرمه چشم آریه پر میشر ان سب کو مکتی دے دے تو پھر ہمیشہ دنیا پیدا کرنے کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے کیونکہ جو ۹۵ روح مکتی پاکر مکتی خانہ میں گیا وہ تو گو یا ہاتھ سے گیا اور بہ باعث نہ ہونے آمدن اور روز مرہ کے خرچ کی آخر سب روح ایک دن ختم ہو جائیں گے اور پھر پر میشر دنیا پیدا کرنے سے قاصر اور عاجز رہے گا اور یہ امر خلاف اصول آریہ سماج ہے غرض آر یہ صاحبوں کے اصول کے بموجب نہ پرمیشر کی توحید اور عظمت قائم رہتی ہے اور نہ مکتی یافتہ روح کبھی ناگہانی آفت سے نجات پاسکتے ہیں بلکہ اس شخص کی طرح جس کو ایک دورہ خاص پر مرگی کی بیماری پڑتی ہے ایسا ہی روحیں بھی ایک قسم کی بیماری میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے اور جیسے جیسے مکتی خانہ سے نکالنے کا وقت نزدیک آتا جائے گا ویسا ہی جزع فزع میں مبتلا ہوتے جائیں گے خداوند کریم جل شانۂ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاوی یعنی جو شخص اپنے پروردگار سے ڈر کر تزکیہ نفس کرے اور ماسوائے اللہ سے مونہہ پھیر کر خدائے تعالیٰ کی طرف رجوع لے آئے تو وہ جنت میں ہے اور جنت اس کی جگہ ہے یعنی خود ایک روحانی جنت بباعث قوت ایمانی و حالت عرفانی اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے جو اس کے ساتھ رہتی ہے اور وہ اس میں رہتا ہے سو اس جگہ ماسٹر صاحب سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ یہ مقابل اس آیت قرآنی کے جو جاودانی اور لازوالی مکتی پر دلیل پیش کرتی ہے جو کچھ وید میں محدود مکتی کا فلسفہ بتلایا گیا ہے وہ شرتی بھی اس جگہ پیش کر دیں ۔۱۴ / مارچ ۸۶ء جواب لالہ مرلید ھر صاحب معہ جواب الجواب از طرف مؤلف رساله هذا قوله - مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ آریہ سماج والوں کا اعتقاد یہ ہے کہ پر میشر نے کوئی روح پیدا نہیں کی اور کل ارواح انادی اور قدیم اور غیر مخلوق ہیں ایسا ہی ان کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ مکتی یعنی نجات ہمیشہ کے لئے کسی انسان کو نہیں مل سکتی بلکہ ایک مدت مقررہ تک مکتی خانہ میں رکھ کر پھر اس سے نکالا جاتا ہے یہ بیان مرزا صاحب کا النازعات: ۴۲۴۱