پُرانی تحریریں — Page 153
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۴۱ سرمه چشم آریه میں حجاب ہو گیا اور جب حجاب ہوا تو پر میشر سرب گیانی نہ ہو سکا یعنے علم غیب پر قادر نہ ہوا۔ (۹۳ اور جب قادر نہ رہا تو اس کی سب خدائی درہم برہم ہوگئی تو گویا پر میشر ہی ہاتھ سے گیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ علم کامل کسی شے کا اس کے بنانے پر قادر کر دیتا ہے اس لئے حکماء کا مقولہ ہے کہ جب علم اپنے کمال تک پہنچ جائے تو وہ عین عمل ہو جاتا ہے اس حالت میں بالطبع سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا پر میشر کو روحوں کی کیفیت اور گنہ کا پورا پورا علم بھی ہے یا نہیں اگر اس کو پورا پورا علم ہے تو پھر کیا وجہ کہ باوجود پورا پورا علم ہونے کے پھر ایسی ہی روح بنا نہیں سکتا سو اس سوال پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ پر میشر روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں بلکہ ان کی نسبت پورا پورا علم بھی نہیں رکھتا ۔ دوسرا ٹکڑہ ہمارے سوال کا حق العباد سے متعلق ہے یعنی یہ کہ آریہ صاحبان کے اعتقاد مذکورہ بالا کے رو سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پرمیشر اپنے بندوں سے بھی ناحق کا ایک نخل رکھتا ہے کیونکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ مکتی اور نجات کی اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان ماسوائے اللہ کی محبت سے مونہ پھیر کر پر میشر کی محبت میں ایسا محو ہو جائے کہ جس طرح عاشق اپنے محبوب کے دیکھنے سے لذت اٹھاتا ہے ایسا ہی اپنے محبوب حقیقی کے تصور سے لذت اٹھائے اور محبت بجز معرفت حاصل نہیں ہو سکتی اور قاعدہ کی بات ہے کہ موجب محبت کے دو ہی امر ہیں یا حسن یا احسان پس جب انسان به باعث اپنی کامل معرفت کے خدائے تعالیٰ کے حسن و احسان پر اطلاع کامل طور پر پاتا ہے تو لا محالہ اس سے کامل محبت پیدا ہو جاتی ہے اور کامل محبت سے لذت ملتی ہے پس اسی جہان سے بہشتی زندگی عارف کی شروع ہو جاتی ہے اور وہی معرفت اور محبت عالم آخرت میں سرور دائمی کا موجب ہو جاتی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں نجات سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ جب ایک شخص کو پورا پورا سامان نجات کا میسر آ گیا اور پرمیشر کی کر پا اور فضل سے مکتی پا گیا تو پھر کیوں پر میشر اس کو نا کردہ گناہ مکتی خانہ سے باہر نکالتا ہے کیا وہ اس بات سے چڑتا ہے کہ کوئی عاجز بندہ ہمیشہ کے لئے آرام پاسکے جس حالت میں ابدی بقا کے