پُرانی تحریریں — Page 150
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۳۸ سرمه چشم آریه ان کے طریق و دھرم میں گولاکھ ہو فساد کیسا ہی ہو عیاں کہ وہ ہے جھوٹ اعتقاد پر تب بھی مانتے ہیں اسی کو بہر سبب کیا حال کر دیا ہے تعصب نے ہے غضب دل میں مگر یہی ہے کہ مرنا نہیں کبھی ترک اس عیال و قوم کو کرنا نہیں کبھی اے غافلاں وفا نکند ایں سرائے خام دنیائے دوں نماند و نماند بکس مدام تمت المباحثه الأولى ولله الحمد في الاولى والاخرى