پُرانی تحریریں — Page 148
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۳۶ سرمه چشم آریه ۸۸) اور دھرم آپ کو ایسی ایسی تعلیمیں دے رہا ہے تو پھر اس جگہ پر میشر کی قدرتوں کا کیا ذکر اور ۸۸ قانون قدرت کے نام لینے کا کونسا حل ہے کیونکہ قدرت یا قانون قدرت تو اسے کہتے ہیں که اول اس مالک کی خالقانہ طاقتوں اور قادرانہ تصرفات اور مختارانہ کاموں کو تسلیم کر کے پھر اس سلسلہ ظہور طاقتوں کو قانون قدرت سے ملقب کیا جائے مگر اس جگہ تو وہ بات ہی نہیں رہی اور پرمیشر صرف نام کا پرمیشر رہ گیا ہے جس کو ایک ذرہ کے پیدا کرنے کی بھی طاقت نہیں ہاں روحوں پر کسی مخفی وجہ کے سبب سے اس کو تسلط ہو گیا ہے شائد کسی اگلے جنم میں اس نے بہت اچھے کرم کئے ہوں گے جس سے وہ اس حکمرانی کے لائق ٹھہر گیا ۔ غرض جب پرمیشر میں قدرت کا نشان نہیں مختارا نہ تصرفات کی طاقت نہیں قادرانہ کاموں کی ہمت نہیں ۔ ترتیب دنیا میں اس کو کچھ دخل ہی نہیں تو پھر ظاہر ہے کہ وہ اس لائق بھی نہیں کہ اس کا کوئی قانون قدرت ہو بلکہ وہی مثل صادق آئے گی کہ بقيه حاشیه سے پیدا ہوتی ہے جیسے کرہ زمین میں جو کچھ ہے وہ زمین سے ہی پیدا ہوا ہے اور پیدا ہوتا ہے پس جبکہ اجرام علوی میں جانداروں کا ہونا ثابت ہے جس کو آر یہ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں تو اس سے ظاہر ہے کہ وہ تمام جاندار سورج و چاند وغیرہ اجرام سے بھی پیدا ہوئے ہوں گے اور اس پیدائش سے یہ ثابت ہو گیا کہ اجسام سفلی کی طرح اجرام علوی بھی کئی طور پر روحوں کی کانیں ہیں پس اس سے تناسخ والوں کو ماننا پڑا کہ کسی زمانہ میں سورج چاند وغیرہ اجرام انسانی روحیں تھیں اور پھر وہ کسی عمل کے نیک یا بداثر سے سورج چاند وغیرہ اجرام بن گئے اور یہ اعتقاد جس قدر قانون قدرت اور عقل کا دشمن ہے اس کے بیان کرنے کی بھی حاجت نہیں ۔ فتدبر ۔ منه