پُرانی تحریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 548

پُرانی تحریریں — Page 129

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۱۷ سرمه چشم آریه کے رو سے شق القمر پر اعتراض کرنا یہ بالکل غلط اور سراسر سمجھ کا پھیر ہے عقلمندی یہ ہے کہ ۶۹ قانون قدرت جو ہنوز انسانی دفتروں میں غیر مکمل ہے اس کو ہمیشہ عجائبات جدید الظہو ر کا تابع رکھنا چاہیے نہ یہ کہ جو عجائبات خواص عالم نئے نئے کھلتے جائیں ان کو باوجو د ثبوت کے اس وجہ سے رد کر دیں کہ جو کچھ آج تک ہمیں معلوم ہے یہ اس سے زائد امر ہے۔ اس سے زیادہ تر کون سی فضول گوئی اور بے سمجھی ہو گی کہ اپنے چند روزہ اور محدود اور مشتبه تجربه کو خدائے تعالیٰ کا مکمل قانون قدرت خیال کر بیٹھیں اور پھر جو آئندہ اسرار کھلتے جائیں ان کو اس بنا پر خلاف قانون قدرت سمجھ لیں کہ وہ ہمارے معلومات سابقہ سے زیادہ ہیں مجھے یقین ہے کہ آپ نے اس رسالہ کے مقدمہ مذکورہ بالا کو پڑھ کر سمجھ لیا ہو گا کہ قانون قدرت کیا چیز ہے اور کس حالت میں کسی امر کو کہہ سکتے ہیں بقیہ غلطی ہوئی مگر وہ سمجھنا کچھ اپنی لیاقت سے نہیں بلکہ لوگوں کے اعتراضات بارش کی ۶۹ حاشیه طرح چاروں طرف سے برس کر متنبہ کرتے تھے اور اسی نقصان فہم کی وجہ سے پنڈت دیا نند کا اپنی تمام زندگی میں یہ طریق رہا ہے کہ اول ایک بات کا دعویٰ کرنا کہ یہ مسئلہ وید کا ہے اور ہمارے ویدوں میں یوں ہی لکھا ہے اور پھر اس کو کسی رسالہ وغیرہ میں چھپوا دینا اور پھر جس وقت دانشمند لوگ اس پر اعتراض کر کے اس کا باطل ہونا کھول دیں اور لاجواب کر دیں تو پھر اس مسئلہ سے گریز کر جانا اور یہ عذر پیش کر دینا کہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ہمارا قصور نہیں ہے بلکہ سہو کا تب ہے چنانچہ پہلے انہوں نے اپنے ستیارتھ پرکاش میں جو وید بھاش کے مشتہر کرنے سے پہلے لکھی گئی ہے صفحہ ۴۲ میں لکھا تھا کہ پتھروں میں سے جو کوئی جیتا ہو اس کا ترپن نہ کرے اور جتنے مر گئے ہوں ان کا تو ضرور کرے اور اس پر چند فوائد اور دلائل بھی بیان کئے تھے لیکن پھر مدت کے بعد انہوں نے اشتہار دیا کہ یہ سہو کا تب ہے۔