پُرانی تحریریں — Page 117
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۰۵ سرمه چشم آریه اس جگہ اس بات کا جواب دینا بھی مناسب ہے کہ اگر سب امور قوانین از لیه وابد یه ۵۷ میں داخل ہیں یعنے پہلے ہی سے بندھے ہوئے چلے آتے ہیں تو پھر معجزات کیا شے ہیں سو جاننا چاہیے کہ بے شک یہ تو سچ ہے کہ قوانین از لیہ وابد یہ سے یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کے ازلی ارادہ اور اس کے قضا و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں گو ہم اس پر اطلاع پاویں یا نہ پاویں۔ جف القلم بما هو كائن مگر اس عادت الہیہ نے جو دوسرے لفظوں میں قانون قدرت سے موسوم ہو سکتی ہے بعض چیزوں کے ظہور کو بعض کے ساتھ مشروط کر رکھا ہے پس جو امور ازلی ابدی ارادہ نے مقدسوں کی دعاؤں اور ان کی برکات انفاس اور ان کی توجہ اور ان کی عقد ہمت اور ان کے اقبال ایام سے وابستہ کر رکھے ہیں اور ان کے تضرعات اور ابتہالات پر مترتب کی جاتی ہیں وہ امور جب انہیں شرائط اور انہیں وسائل سے ظہور میں آتے ہیں تب ان امور کو اس خاص حالت میں معجزہ یا کرامت یا نشان یا خارق عادت کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اس جگہ خارق عادت کے لفظ سے اس شبہ میں نہیں پڑنا چاہئے کہ وہ کون سا امر ہے جو عادت الہیہ سے باہر ہے کیونکہ اس محل میں خارق عادت کے قول سے ایک مفہوم اضافی مراد ہے یعنے یوں تو عادات از لیہ وابد یہ خدائے کریم جل شانہ سے کوئی چیز با ہر نہیں مگر اس کی عادات جو بنی آدم سے تعلق رکھتی ہیں دوطور کی ہیں ایک عادات عامہ جو رو پوش اسباب ہو کر سب پر مؤثر ہوتی ہیں دوسری عادات خاصہ جو بتوسط اسباب اور بلا توسط اسباب خاص ان لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں جو اس کی محبت اور رضا میں کھوئی جاتی ہیں یعنے جب انسان بکلی خدائے تعالیٰ کی طرف انقطاع کر کے اپنی عادات بشریہ کو استرضاء حق کے لئے تبدیل کر دیتا ہے تو خدائے تعالیٰ اس کی اس حالت مبدلہ کے موافق اس کے ساتھ ایک خاص معاملہ کرتا ہے جو دوسروں سے نہیں کرتا یہ خاص معاملہ نسبتی طور پر گویا خارق عادت ہے جس کی حقیقت انہیں پر کھلتی ہے جو عنایت الہی سے اس طرف کھینچے جاتے ہیں ۔ جب انسان اپنی بشری عادتوں کو جو اس میں اور اس کے رب میں حائل ہیں شوق توصل الہی میں توڑتا ہے تو خدائے تعالیٰ بھی اپنی عام عادتوں کو اس کے لئے توڑ دیتا ہے یہ توڑنا بھی عادات