پُرانی تحریریں — Page 104
روحانی خزائن جلد ۲ ۹۲ سرمه چشم آریه ۴۴ مشاہدات جدیدہ نے تکذیب کی ۔ سوجن شکلوں اور حالتوں میں وہ مشاہدات جدیدہ جلوہ گر ہوئے انہیں کے موافق ان کی راؤں کی پڑی بدلتی اور الٹتی پلٹتی رہی اور جدھر تجارب جدیدہ کا رخ پلٹتا رہا ادھر ہی ان کے خیالات کی ہوائیں پلٹا کھاتی رہیں غرض فلسفیوں کے خیالات کی لگام ہمیشہ امور جدید الظہور کے ہاتھ میں رہی ہے اور اب بھی بہت کچھ ان کی نظروں سے چھپا ہوا ہے جس کی نسبت امید کی جاتی ہے کہ وہ آئندہ ٹھوکریں کھا کھا کر اور طرح طرح کی رسوائیاں اٹھا اٹھا کر کسی نہ کسی وقت قبول کریں گے کیونکہ قوانین قدرت انسانی عقل کے دفتر میں ابھی تک ایسے منضبط نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں جن پر نظر کر کے نئی تحقیقاتوں سے نوامیدی ہو۔ کیا کوئی عقلمند خیال کر سکتا ہے کہ انسان دنیا کے مکتب خانہ میں باوجود اپنی اس قدر عمر قلیل کے تحصیل اسرار ازلی ابدی سے بکلی فراغت پا چکا ہے اور اب اس کا تجربہ عجائبات الہیہ پر ایسا محیط ہو گیا ہے کہ جو کچھ اس کے تجربہ سے باہر ہو وہ فی الحقیقت خدائے تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے میں جانتا ہوں کہ ایسا خیال بجز ایک بے شرم اور ابلہ آدمی کے کوئی دانشمند نہیں کر سکتا۔ فلاسفروں میں سے جو واقعی نیک دانا اور سچے روحانی آدمی گزرے ہیں انہوں نے خود تسلیم کر لیا کہ ہمارے خیالات جو محدود اور منقبض ہیں خدا اور اس کے بے انتہا بھیدوں اور حکمتوں کی شناخت کا ذریعہ نہیں ہو سکتے بار ہا فلاسفروں نے اپنی راؤں میں ندامتیں اٹھا ئیں اور صدہا خواص قاعدہ طبعی کے برخلاف اور قوانین طبعیہ کے نقیض ہو کر پھر مشاہدہ کے رو سے ثابت ہو گئے تو آخر وہ ماننے ہی پڑے اور علوم طبعی یا ہیئت کی وہاں کچھ پیش نہ گئی۔ ہاں بعض سوانح عجیبہ جو تاریخی طور پر ثابت کی جاتی ہیں جیسے یہی معجزہ شق القمر جولالہ مرلید ھر صاحب کی نظر میں پرمیشر کے ازلی ابدی قانون قدرت کے برخلاف ہے ایسے سوانحہ پر یقین لانا یا نہ لانا اپنے علم وسیع یا محدود پر موقوف ہے یہ حجت ہرگز نہیں ہو سکتی کہ یہ واقعہ علوم طبعی یا ہیئت کے برخلاف ہے کیونکہ قدرت قدیمہ کاملہ کے موافق یا مخالف ہونا بعد احاطۂ قدرت کے معلوم ہو سکتا ہے اس لئے یہ علوم نا قصہ ہیئت وطبعی جو ہمارے دفتروں میں منضبط ہیں وہ اس تعریف کے ہرگز لائق نہیں جو انہوں نے کوئی دقیقہ اور کوئی امر تہہ میں چھپا ہوا