پُرانی تحریریں — Page 84
روحانی خزائن جلد ۲ ۷۲ سرمه چشم آریه ۲۴ اعتقاد حسن ظن واطاعت و اتباع منجر صادق و کلام الہی ہے لیکن وہ لوگ اپنے غلط فلسفہ کی وجہ سے مذہب کی حقیقت کچھ اور ہی سمجھ رہے ہیں سو انہیں لازم ہے کہ تعصب اور خود پسندی کے شور و غوغا سے اپنے تیں الگ کر کے سیدھی نظر اور سیدھے خیال سے اس سوال پر غور کریں کہ ایمان کیا شے ہے اور اس پر ۲۳ بقیه پر برکت اثر لاکھوں دلوں پر وہ ڈالتا آیا ہے ۔ وہ بلا شبہ صفات کمالیہ حق تعالیٰ کا حاشیه ایک نہایت مصفا آئینہ ہے جس میں سے وہ سب ۔ کچھ ملتا ہے جو ایک سالک کو مدارج عالیه معرفت تک پہنچنے کے لئے درکار ہے ۔ اور جیسا کہ ہم عنوان اس حاشیہ پر لکھ چکے ہیں معرفت حقانی کے عطا کرنے کے لئے تین دروازے قرآن شریف میں کھلے ہوئے ہیں ایک عقلی یعنے خدائے تعالیٰ کی ہستی اور خالقیت اور اس کی توحید اور قدرت اور رحم اور قیومی اور مجازات وغیرہ صفات کی شناخت کے لئے جہاں تک علوم عقلیہ کا تعلق ہے استدلالی طریق کو کامل طور پر استعمال کیا ہے اور اس استدلال کے ضمن میں صناعت منطق و علم بلاغت و فصاحت و علوم طبعی و طبابت و هیئت و هندسه و دقائق فلسفیه و طریق جدل و مناظرہ وغیرہ تمام علوم کو نہایت لطیف و موزوں طور پر بیان کیا ہے جس سے اکثر دقیق مسائل کا بیچ کھلتا ہے۔ پس یہ طرز بیان جو فوق العادت ہے از قسم اعجاز عقلی ہے کیونکہ بڑے بڑے فیلسوف جنہوں نے منطق کو ایجاد کیا اور فلاسفی کے قواعد مرتب کئے اور بہت کچھ طبعی اور ہیئت میں کوشش و مغز زنی کی وہ بباعث نقصان عقل اپنے ان علوم سے اپنے دین کو مدد نہیں دے سکے اور نہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر سکے اور نہ اوروں کو فائدہ دینی پہنچا سکے بلکہ اکثر ان کے دہریہ اور ملحد اور ضعیف الایمان رہے اور جو بعض ان میں سے کسی قدر خدائے تعالیٰ پر ایمان لائے انہوں نے ضلالت کو صداقت کے ساتھ ملا کر اور خبیث کو طیب کے ساتھ مخلوط