پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 525 of 567

پیغام صلح — Page 525

37 ویدوں کی رُو سے پرمیشر کامعمولی گناہ پر بھی شدید مؤاخذہ کرنا ۵۵ وید اور خدا کی ہستی یجروید اور رگ وید میں خدا کا تصّور ۱۲۱،۱۲۲ وید کی رُو سے پرمیشر کی صفات اور اُن پر تنقید ۱۹۴ اگررُوحیں خود بخود ہیں تو پھر پرمیشر پرمیشر نہیں رہ سکتا اور نہ پرستش کر<mark>ان</mark>ے کا اسے حق ٹھہرتاہے ۲۰۴ ہندووں کا پرمیشر کوناراض کرنے کے لئے روغنی روٹیوں پر پاخ<mark>ان</mark>ہ پھیرنا ۱۳۲ بائیبل اور وید کے مقابل بذریعہ قرآن کریم توحید کا قیام ۲۶۹ دی<mark>ان</mark>ندویدوں میں توحید ثابت کرنے سے نامراد مراہے ۷۹ وید کی رو سے سب عناصر و اجرام فلکی خدا ہیں ۴۴ ویدوں میں پرمیشر کا نام تک نہیں اور بجائے پرمیشر کے اگنی وایو، جل،چ<mark>ان</mark>د اور سورج وغیرہ مخلوقات کی تعریف موجود ہے ۴۸ح ویدکی رُو سے پرمیشر کا وجود ثابت کرنے والے کیلئے دس ہزار روپے کا <mark>ان</mark>عامی چیلنج ۱۳۶ پرمیشر کے متعلق وید کا تصور ۱۱۴ ویدوں کی تعلیم کی رو سے پرمیشر روح و مادہ کا مالک نہیں ٹھہرتا ۱۶ وید نے پیش کردہ خدا کے وجود کا کچھ ثبوت نہیں دیا ۱۰۶ خدا کی ہستی اور توحید کے قرآنی دلائل کو وید سے نکال کر دکھل<mark>ان</mark>ے پر آریوں کو ہزار روپے کا <mark>ان</mark>عامی چیلنج ۱۴۳ موجودہ وید میں کوئی ودّیا نہیں۔نہ دین کی نہ دنیا کی ۵۹ وید صرف قصہ کے رنگ میں خدا کی صفات کا ذکر کرتا ہے ۳۹ ویدنے پرمیشر کا ایک ایسا حلیہ دکھلایا ہے کہ گویا ہر ایک عیب، غضب ، کینہ وری اور بے رحمی میں اس کی کوئی نظیر نہیں ۵۹ وید کی رُو سے پرمیشر عفوو درگذر اور رحم وکرم کا عادی نہیں ۵۴ وید میں پرمیشر کا مالک کی بجائے منصف کا درجہ ہے ۲۹ وید میں پرمیشر کے سرب شکتی م<mark>ان</mark> (قادر مطلق) نہ ہونے کا وید سے ہی ردّ ۱۲۷ خدا کی خالقیت، رزاقیت اور منعم ورحمن ہو نے سے <mark>ان</mark>کاری ہونا ۱۸۷ وید نے خدا تعالیٰ کی معرفت کا کوئی طریقہ نہیں بتایا ۱۷۳ وید کا پیش کردہ پرمیشر اور اس کا غضب ۵۸ رگ وید کی بعض شرتیاں جن میں پرمیشر کو غضب کرنے والا بتلایا گیا ہے ۴۷ خدا کی صفت غضب کے متعلق وید اور قرآن شریف کی تعلیمات کا موازنہ ۴۹ بمطابق وید پرمیشر گناہ پر سخت مؤاخذہ کرتا ہے ۵۵ وید خدا تعالیٰ کو ارواح کا خالق تسلیم نہیں کرتا ۲۹ وید اور رُوح وید کی رُوح کے متعلق غیرمعقول تعلیم اور اس کا ردّ ۲۹۱ رُوح کے متعلق وید کے نظریہ کاردّ ۱۲۴تا۱۳۰ وید اور مخلوق پرستی وید میں لاتسجدوا للشمس ولاللقمر کے ہم معنی کوئی شرتی ہوتی تو کروڑہا آدمی مخلوق پرستی سے ہلاک نہ ہوتے ۷۸ دی<mark>ان</mark>ندویدوں میں توحید ثابت کرنے سے نامراد مرا ۷۹ وید میں مخلوق پرستی کی تعلیم ۱۲۰ وید کی رُو سے عناصر و اجرامِ فلکی خدا ہیں اور پھر مخلوق بھی ہیں ۴۴ موجودہ وید کی تعلیم سے توحید ثابت نہیں ہوتی ۷۸،۷۹ رگ وید اور دوسرے ویدوں میں صریحاً مخلوق پرستی کی تعلیم ۴۵ اگر وید جل کی پوجاکی ہدایت نہ کرتا تو گنگا مائی کے پوجنے والے کیوں پیداہوجاتے ۴۵،۷۸ پیدائش وفنا کے متعلق وید کی غیر معقول تعلیم ۲۰۴ وید کے اس نظریہ کاردّ کہ ج<mark>ان</mark>وروں سے پیار کرو کیونکہ وہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> ہیں ۱۳۱ قرآن کریم سے موازنہ وید اور قرآن کریم کا موازنہ ۳۰۸ خداکے مالک ہونے کے متعلق وید اور قرآن کا موازنہ ۱۷ وید میں خدا تعالیٰ کے متعلق یقینی علم دینے کیلئے کوئی پیشگوئی موجود نہیں ۳۸ پیرووں کی اصلاح اور <mark>نیک</mark> اثرات کے لحاظ سے وید و قرآن کاموازنہ ۷۷