پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 457 of 567

پیغام صلح — Page 457

روحانی خزائن جلد ۲۳ سد راہ ہوئے جس سے رنجش بڑھ گئی۔ ۴۵۷ پیغام صلح میں تسلیم کرتا ہوں کہ ان وجوہ سے بھی اصل عداوت پر حاشیے چڑھ گئے ہیں مگر میں ہرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ اصل وجوہ یہی ہیں ۔ اور مجھے ان صاحبوں سے اتفاق رائے نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ ہندو مسلمانوں کی باہمی عداوت اور نفاق کا باعث مذہبی تنازعات نہیں ہیں اصل تنازعات پولٹیکل ہیں۔ یہ بات ہر یک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ مسلمان اس بات سے کیوں ڈرتے ہیں کہ اپنے جائز حقوق کے مطالبات میں ہندوؤں کے ساتھ شامل ہو جائیں اور کیوں آج تک اُن کی کانگریس کی شمولیت سے انکار کرتے رہے ہیں اور کیوں آخر کار ہندوؤں کی درستی رائے محسوس کر کے اُن کے قدم پر قدم رکھا مگر الگ ہو کر اور اُن کے مقابل پر ایک مسلم انجمن قائم کر دی مگر اُن کی شراکت کو قبول نہ کیا۔ صاحبو! اس کا باعث دراصل مذہب ہی ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں اگر آج وہی ہندو كلمه طيبه لا اله الا الله محمد رسول اللہ پڑھ کر مسلمانوں سے آکر بغل گیر ہو جائیں یا مسلمان ہی ہندو به ہندو بن کر اگنی وایو وغیرہ کی پرستش وید کے حکم کے موافق شروع کر دیں اور اسلام کو الوداع کہہ دیں تو جن تنازعات کا نام اب پولٹیکل رکھتے ہیں وہ ایک دم میں ایسے معدوم ہو جائیں کہ گویا کبھی نہ تھے۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ تمام بغضوں اور کینوں کی جڑھ دراصل اختلاف مذہب ﴿۲۹﴾ ہے۔ یہی اختلاف مذہب قدیم سے جب انتہا تک پہنچتا رہا ہے تو خون کی ندیاں بہاتا رہا ہے۔ اے مسلمانوں جب کہ ہند و صاحبان تمہیں بوجہ اختلاف مذہب کے ایک غیر قوم جانتے ہیں اور تم بھی اس وجہ سے اُن کو ایک غیر قوم خیال کرتے ہو۔ پس جب تک اس سبب کا ازالہ نہ ہوگا کیوں کر تم میں اور اُن میں ایک سچی صفائی پیدا ہو سکتی ہے۔ ہاں ممکن ہے کہ منافقانہ طور پر باہم چند روز کے لئے میل جول بھی ہو جائے۔