پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 453 of 567

پیغام صلح — Page 453

روحانی خزائن جلد ۲۳ لده الله پیغام صلح کے لئے کافی ہے کیونکہ اگر اہے - ہے کیونکہ اگر وہ خدا کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ قبولیت کروڑ ہا لوگوں کے دلوں میں نہ پھیلتی خدا اپنے مقبول بندوں کی عزت دوسروں کو ہرگز نہیں دیتا اور اگر کوئی کا ذب اُن ﴿۲۳﴾ کی کرسی پر بیٹھنا چاہے تو جلد تباہ ہوتا اور ہلاک کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں اور اُس کے رشیوں کو بزرگ اور مقدس سمجھتے ہیں اگر چہ ہم دیکھتے ہیں کہ وید کی تعلیم پورے طور پر کسی فرقے کو خدا پرست نہیں بنا سکی اور نہ بنا سکتی تھی اور جو لوگ اس ملک میں بت پرست یا آتش پرست یا آفتاب پرست یا گنگا کی پوجا کرنے والے یا ہزار ہا دیوتاؤں کے پوجاری یا جین مت یا شاکت مت والے پائے جاتے ہیں ۔ وہ تمام لوگ اپنے مذاہب کو وید ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور وید ایک ایسی مجمل کتاب ہے کہ یہ تمام فرقے اُسی میں سے اپنے اپنے مطلب نکالتے ہیں تا ہم خدا کی تعلیم کے موافق ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ وید انسان کا افترا نہیں ہے۔ انسان کے افترا میں یہ قوت نہیں ہوتی کہ کروڑ ہا لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لے اور پھر ایک دائمی سلسلہ قائم کر دے اور اگر چہ ہم نے وید میں پتھر کی پرستش کا ذکر تو کہیں نہ پڑھا لیکن بلا شبہ اگنی وایو اور جل اور چاند اور سورج وغیرہ کی پرستش سے وید بھرا ہوا ہے اور کسی شرقی میں ان چیزوں کی پرستش کے لئے ممانعت نہیں ۔ اب اس کا کون فیصلہ کرے کہ دوسرے تمام قدیم فرقے ہندوؤں کے جھوٹے ہیں اور صرف نیا فرقہ آریوں کا سچا اور جو لوگ وید کے حوالہ سے ان چیزوں کی پرستش کرتے ہیں اُن ۲۴ کے ہاتھ میں یہ دلیل پختہ ہے کہ ان چیزوں کی پرستش کا وید میں صریح ذکر ہے اور ممانعت کہیں بھی نہیں اور یہ کہنا کہ یہ سب پر میشر کے نام ہیں ہنوز یہ ایک دعوی ہے کہ جو ابھی صفائی سے طے نہیں ہوا او راگر طے ہو جاتا تو کچھ وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ بڑے بڑے پنڈت بنارس اور دوسرے شہروں کے آریوں کے عقیدوں کو قبول نہ کرتے باوجود تمیں پینتیس برس کی کوششوں کے بہت ہی کم ہندوؤں نے آریہ مذہب اختیار کیا ہے اور بمقابلہ سناتن دھرم اور دوسرے ہندو