پیغام صلح — Page 448
١٦ روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۴۸ پیغام صلح اور ایک ہی زبان اُس کو پسند آ گئی ہے اور میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ کس قسم کی منطق اور کس نوع کا فلسفہ ہے کہ پر میشر ہر ایک آدمی کی دعا اور پرارتھنا کو اس کی زبان میں سمجھ تو سکتا ہے اور نفرت نہیں کرتا مگر اس بات سے سخت نفرت کرتا ہے کہ بجز ویدک سنسکرت کے کسی اور زبان میں دلوں پر الہام کرے۔ یہ فلاسفی یا وید و دیا اس سر بستہ معما کی طرح ہے جواب تک کوئی انسان اس کو حل نہیں کر سکا۔ میں وید کو اس بات سے منزہ سمجھتا ہوں کہ اس نے کبھی اپنے کسی صفحہ پر ایسی تعلیم ☆ شائع کی ہو کہ جو نہ صرف خلاف عقل ہو بلکہ پر میشر کی پاک ذات پر بجل اور پکیش پات کا داغ لگاتی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی الہامی پر ایک زمانہ دراز گذر جاتا ہے تو اُس کے پیرو کچھ تو باعث نادانی کے اور کچھ باعث اغراض نفسانی کے سہوا یا عمداً اس کتاب پر اپنی طرف سے حاشیے چڑھا دیتے ہیں اور چونکہ حاشیہ چڑہانے والے متفرق خیالات کے لوگ ہوتے ہیں اس لئے ایک مذہب سے صدہا مذہب پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ جس طرح آریہ صاحبان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیشہ آریہ خاندانوں اور آریہ ورت تک ہی الہام الہی کا سلسلہ محدود رہا ہے اور ہمیشہ ویدک سنسکرت ہی الہام الہی کے لئے خاص رہی ہے اور وہ پرمیشر کی زبان ہے۔ یہی یہود کا خیال اپنے خاندان اور اپنی کتابوں کی نسبت ہے۔ اُن کے نزدیک بھی خدا کی اصلی زبان عبرانی ہے اور ہمیشہ ا کے الہام کا سلسلہ بنی اسرائیل ا بنی اسرائیل اور انہیں کے ملک تک محدود تک محدود رہا ہے اور جو ہے اور جو شخص اُن کے ر خاندان اور اُن کی زبان سے الگ ہونے کی حالت میں نبی ہونے کا دعویٰ کرے اُس کو وہ خدا نعوذ باللہ جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ پس کیا یہ تو ارد تعجب انگیز نہیں ہے کہ ان دونوں قوموں نے اپنے اپنے بیان میں ایک ہی خیال پر قدم مارا ہے ۔ اسی طرح دنیا میں اور بھی کئی فرقے ہیں جو اسی خیال حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے الہامی کتاب “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)