پیغام صلح — Page 330
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۳۰ چشمه معرفت لیکن یہ سب کچھ جو ظہور میں آیا یہ اس لئے ظہور میں نہیں آیا کہ اصل مقصود میری عظمت ظاہر کرنا تھا بلکہ اس لئے ظہور میں آیا کہ تا خدا تعالیٰ دین اسلام کی حجت دنیا پر قائم کرے۔ میں تو خود حیران ہوں کہ میں خود کچھ چیز نہ تھا لیکن میں خدا کے فضل اور نعمت کو کیوں کر رڈ کروں آخر جبکہ بڑے بڑے صدمات اسلام پر وارد ہو کر تیرھویں صدی پوری ہوئی اور اس منحوس صدی میں ہزار ہا قسم کے اسلام کو زخم پہنچے اور چودھویں صدی کا آغاز شروع ۳۱۶ ہوا تو ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کی قدیم سنت کے موافق موجودہ مفاسد کی اصلاح اور دین کی تجدید کے لئے کوئی پیدا ہوتا ۔ سو اگر چہ اس عاجز کو کیسا ہی تحقیر کی نظر سے دیکھا جائے مگر خدا نے اس امت کا خاتم الخلفاء اسی اپنے بندہ کو ٹھیرایا۔ میرے بارے میں شیخ محی الدین ابن العربی نے ایک پیشگوئی کی تھی جو میرے پر پوری ہوگئی اور وہ یہ کہ خاتم الخلفاء جس کا دوسرا کہ پہلے بھی کئی دفعہ خسوف کسوف ہو چکا ہے اُس کے ذمہ یہ بار ثبوت ہے کہ وہ ایسے مدعی مہدویت کا پتہ دے جس نے اس کسوف خسوف کو اپنے لئے نشان ٹھہرایا ہو اور یہ ثبوت یقینی اور قطعی نی ا اور قطعی چاہیے اور یہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ ایسے مدعی کی کوئی کتاب پیش کی جائے جس نے مہدی معہود ہونے کا دعوی کیا ہوا اور نیز یہ لکھا ہو کہ خسوف کسوف جو رمضان میں دار قطنی کی مقرر کردہ تاریخوں کے موافق ہوا ہے وہ میری سچائی کا نشان ہے۔ غرض صرف خسوف کسوف خواہ ہزاروں مرتبہ ہوا ہو اس سے بحث نہیں ۔ نشان کے طور پر ایک مدعی کے وقت صرف ایک دفعہ ہوا ہے اور حدیث نے ایک مدعی مہدویت کے وقت میں اپنے مضمون کا وقوع ظاہر کر کے اپنی صحت اور سچائی کو ثابت کر دیا ۔ اسی طرح نواب صدیق حسن خان صاحب حج الکرامہ میں اور حضرت مجدد الف ثانی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ احادیث صحیحہ میں لکھا ہے کہ ستارہ دُنبالہ دار یعنی ذوالسنین مہدی موعود کے ظہور کے وقت میں نمودار ہو گا چنانچہ وہ ستارہ ۱۸۸۲ء میں نکلا اور انگریزی اخباروں نے اس کی نسبت یہ بھی بیان کیا کہ یہی وہ ستارہ ہے کہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں نکلا تھا۔ ایسا ہی اس زمانہ کے قریب جب کہ خدا نے مجھ کو مبعوث فرمایا ستارے اس کثرت سے ٹوٹے جن کی ان سے پہلے نظیر نہیں دیکھی گئی اور شاید یہ نومبر ۱۸۸۵ء تھا اسی طرح اور کئی آسمانی آثار ظاہر ہوئے ۔ یہ خدا کے سب نشان ہیں۔ منہ