پیغام صلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 567

پیغام صلح — Page 258

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۵۸ چشمه معرفت مشکل سے چھڑایا۔ اس پر ابوبکر کو اس قدر مارا پیٹا کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ حضرت کے اُو پر جو ظلم ہوتا تھا اُسے جس طرح بن پڑتا تھا وہ برداشت کرتے ا تھا اور بیتاب ہو جاتا ۲۴۸ تھے مگر اپنے رفیقوں کی مصیبت دیکھ کر اُن کا دل ہاتھ سے نکل جاتا تھا ا ۔ تھا اُن غریب مومنوں پر ظلم وستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔ لو لوگ اُن غریبوں کو پکڑ کر جنگل میں لے جاتے اور برہنہ کر کے جلتی تپتی ریت میں لٹا دیتے اور اُن کی چھاتیوں پر پتھر کی سلیں رکھ دیتے وہ گرمی کی آگ سے تڑپتے ۔ مارے بوجھ کے زبان باہر نکل پڑتی ۔ بہتیروں کی جانیں اس عذاب سے نکل گئیں ۔ انہیں مظلوموں میں سے ایک شخص عمار تھا جسے اس حوصلہ وصبر کی وجہ سے جو اُس نے ظلموں کی برداشت میں ظاہر کیا حضرت عمار کہنا چاہیے ان کی مشکیں باندھ کر اُسی پتھر یلی تپتی زمین پر لٹاتے تھے اور اُن کی چھاتی پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ محمد کو گالیاں دو اور یہی حال اُن کے بڑھے باپ کا کیا گیا ۔ اُن کی مظلوم بی بی سے جس کا نام سمیہ تھا یہ ظلم نہ دیکھا گیا اور وہ عاجزانہ فریاد زبان پر لائی ۔ اس پر وہ بے گناہ ایماندار عورت جس کی آنکھوں کے رو برواس کے شوہر اور جوان بچے پر ظلم کیا جاتا تھا، بر ہنہ کی گئی اور اُسے سخت بے حیائی سے ایسی تکلیف دی گئی جس کا بیان کرنا بھی داخل شرم ہے آخر اس عذاب شدید میں تڑپ تڑپ کر اس ایماندار بی بی کی جان نکل گئی ہو۔ دیکھو صفحہ ۲۵ سوانح عمری حضرت محمد صاحب) * ☆ حاشیہ: جو ظالم طبع لوگ مسلمانوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے لڑائیوں میں کافروں کی عورتوں کو لونڈیاں بنایا تھا وہ اس تھوڑے سے قصہ پر ہی غور کریں جو ایک منصف مزاج برہمو نے اپنی کتاب مسمی سوانح عمری حضرت محمد میں لکھا ہے۔ یہ قصہ اس کتاب کے صفحہ ۴۵ میں درج ہے جو اس جگہ مصنف کی عبارت میں بجنسہ نقل کر دیا ہے اور اس قصہ پر سہو کتابت معلوم ہوتا ہے صفحہ ۳۵ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)