پیغام صلح — Page 178
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۷۸ چشمه معرفت اقرار صحیح بدرستی ہوش و حواس کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اوّل سے آخر تک رسالہ سرمہ چشم آریہ کو پڑھ لیا اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اُس کے دلائل کو بخوبی سمجھ لیا بلکہ اُن کے بطلان کو بروئے ست دھرم رسالہ ھذا میں شائع کیا۔ میرے جی میں مرزا جی کی دلیلوں نے کچھ بھی اثر نہ کیا اور نہ وہ راستی کے متعلق ہیں۔ میں اپنے جگت پتا پر میشر کو ساکھی جان کر اقرار کرتا ہوں کہ جیسا کہ ہر چہار وید مقدس میں ارشاد ہدایت بنیاد ہے اُس پر میں پختہ یقین ۱۷۰ رکھتا ہوں کہ میری روح اور تمام ارواح کو کبھی نیستی یعنی قطعی ناش نہیں ہے اور نہ کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔ میری روح کو کسی نے نیست سے ہست نہیں کیا (یعنی میری روح کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں بلکہ خود بخود قدیم سے ہے ) بلکہ ہمیشہ سے پر ماتما کی انا دی قدرت میں رہا اور رہے گا ایسا ہی میرا جسمی مادہ یعنی پر کرتی یا پر مانو بھی قدیمی یا انا دی پر ماتما کے قبضہ قدرت میں موجود ہیں کبھی مفقود نہیں ہوں گے اور تمام جگت کا سرجن ہار ☆ حاشیہ: یہ کیسا فضول فقرہ ہے کہ ہمیشہ سے پر ماتما کی انادی قدرت میں رہا اور رہے گا ظاہر ہے کہ جبکہ ارواح بقول آریہ سماج کے اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ قدیم سے خود بخود ہیں تو پھر ان کو پرمیشر کی قدرت کے ساتھ تعلق ہی کیا ہے ان قوتوں کو نہ پر میشر بڑھا سکتا ہے نہ گھٹا سکتا ہے اور نہ ان میں کسی طرح کا تصرف کر سکتا ہے وہ تمام ارواح تو بقول آریوں کے اپنے اپنے وجود کے آپ ہی پر میشر ہیں اور ایک ذرہ پر میشر کا ان پر احسان نہیں پس یاد رہے کہ یہ مقولہ لیکھر ام اور اس کے دوسرے ہم مذہبوں کا کہ ارواح پر ماتما کی انادی قدرت میں رہتے ہیں اور رہیں گے یہ صرف اپنے غلط مذہب کی پردہ پوشی کے لئے بولا جاتا ہے کیونکہ انسان کا کانشنس اس کو ہر وقت ایسے بیہودہ عقاید پر ملزم کرتا ہے اگر خدا روحوں اور ان کی قوتوں اور ذرات عالم اور ان کی قوتوں کا پیدا کرنے والا نہیں تو پھر وہ ان کا خدا بھی نہیں ہو سکتا اور یہ کہنا کہ اگر چہ ہم ارواح کو ان کے تجرد کی حالت میں خدا کے بندے اور مخلوق نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس نے ان کو نہیں بنایا لیکن جب پرمیشر ارواح کو اجسام میں ڈالتا ہے تو اس قدر اپنی کارروائی سے ان کا پرمیشر بن جاتا ہے یہ خیال بھی غلط ہے کیونکہ جس پر میشر نے ارواح اور پر مانو کو معہ ان کی تمام قوتوں کے پیدا نہیں کیا کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہو سکتی ہے کہ وہ ان کے جوڑنے پر قادر ہے اور محض بعض کا بعض