نزول المسیح — Page 595
۲۱۳ روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۹۱ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار یا جس کو اس میں شر کیا گیا ہوں اس نے مندرجہ ذیل خرق عادت میگوئیاں جلائیں جو نا ظاہر ی میں تاریخ لاہور بقیہ پیشگوئی نمبر ۸۵ پیشگوئی نمبر ۸۶ پیشگوئی نمبر ۷ ۸ زنده گواه رویت نمبر ۸۶ VbVI پس میں نے سب عزیزوں کو جمع کر کے کھول کر سنا دیا کہ خدائے علیم نے مجھے خبر دی ہے کہ تم اس مقدمہ میں ہرگز فتح یاب نہ ہو گے ۔ اس لئے اس سے دستبردار ہو جانا چاہئے ۔ لیکن انہوں نے ظاہری وجوہات اور اسباب پر نظر کر کے اور اپنی فتح یابی کو متعین خیال کر کے میری بات کی قدر نہ کی اور مقدمہ کی پیروی شروع کر دی اور عدالت ماتحت میں میرے بھائی کو فتح بھی ہو گئی لیکن خدائے عالم الغیب کی وحی کے بر خلاف کس طرح ہو سکتا تھا بالآخر چیف کورٹ میں میرے بھائی کو شکست ہوئی اور اس طرح اس الہام کی صداقت سب پر ظاہر ہوگئی۔ خواجہ جمال الدین صاحب بی اے جو ہماری جماعت میں داخل ہیں جب امتحان منصفی میں فیل ہوئے اور ان کو بہت نا کامی اور نا امیدی لاحق ہوئی اور سخت غم ہوا تو ان کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا کہ سَيُغْفَرُ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے اس غم کا تدارک کرے گا۔ چنانچہ اس کے پیشگوئی ી ١٩٠٠ء مطابق وہ جلد ریاست کشمیر میں ایک ایسے عہدہ پر ترقی یاب ہوئے جو عہدہ منصفی سے ان کے لئے بہتر ہوا یعنی وہ تمام ریاست جموں و کشمیر کے انسپکٹر مدارس ہو گئے اور اب تک اسی عہدہ پر قائم ہیں لیے ایک دفعہ ہم ریل گاڑی پر سوار تھے اور لدھیانہ کی طرف جا رہے تھے کہ الہام ہوا کہ نصف ترا نصف عمالیق را ا اور اس کے ساتھ یہ تفہیم ہوئی لے اس نشان کے گواہ بہت سارے احباب ہیں مثلاً مولوی حکیم نورالدین صاحب۔ مولوی عبد الکریم صاحب ۔ خواجہ کمال الدین صاحب مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی محمد علی صاحب - مولوی شیر علی صاحب ۔ حکیم فضل دین صاحب وغیرہ۔ ۶۷۷۱ تقریباً ۱۸۸۷ء