نزول المسیح — Page 303
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۹۹ الهدى مكائد جيرانهم من النصارى۔ فما بلغوهم في دقائق الدساسة وحيل پڑوسیوں کی مکاریوں کو سیکھیں لیکن باریک فریبوں اور بچاؤ کی تدبیروں میں ان تک الحراسة۔ فمثلهم كمثل ديك أراد أن يُضاهي النسر في الطيران۔ پہنچ نہ سکے۔ سو وہ اس مرغ کی مانند ہیں جس نے پرواز میں کرگس بننا چاہا۔ فزايل مركزه وما بلغ مقام النسر فخر لاغبا فلقفه صقر في الميدان ۔ پس اپنی جگہ سے تو اکھڑ گیا اور کرگس کے مقام کو پہنچ نہ سکا آخر تھک کر گرا۔ پھر ایک چرغ نے هذا مثل ملوك الإسلام بمقابلة أهل الصلبان أعرضوا عما علموا ﴿٥٥﴾ میدان میں اسے آدبایا۔ یہ ہے مثال مسلمان بادشاہوں کی عیسائیوں کے من وصايا الاتقاء۔ وما كملوا في المكائد كالأعداء ۔ فبقوا لا من مقابل ۔ جو کچھ انہیں تقوی اللہ کے متعلق تعلیم ملی تھی اس سے تو منہ پھیر لیا اور اپنے مخالفوں کی هؤلاء ولا من هؤلاء۔ وقد كتب الله لملوك دينه أن لا ينصرهم أبدًا طرح وہ چالاکیاں اور داؤ بھی پورے نہ سیکھے اور مسلمان بادشاہوں کی نسبت خدا تعالیٰ إلا بعد تقواهم۔ وأراد للنصارى أن يجعلهم فائزين بمكرهم إذ وعدہ کر چکا ہے کہ جب تک متقی نہ بنیں گے ان کی کبھی مدد نہ کرے گا اور اس نے ایسا ہی چاہا ہے کہ أسخط المؤمنون مولاهم ۔ ومن سوء القدر أنا لا نرى في هذه الأيام نصاری کو ان کے مکر میں کامیاب کر دے جبکہ مومنوں نے اُسے ناراض کیا ہے اور بدبختی سے ہم ملوك الإسلام قائمين على حدود الله العلام۔ لا في أنفسهم ولا في اس وقت مسلمان بادشاہوں کو خدا کی پر قائم نہیں دیکھتے الأحكام۔ بل ما بقى فيهم إلا نهمة عشرين لونا من القلايا ۔ بلکہ عیش و عشرت کی حرص کے سوا ان کے پیش نظر اور کچھ بھی نہیں۔ وسبعين حسناء من المحصنات أو البغايا۔ ولا يعلمون ما اور رعایا کے معاملات و مقدمات کے فیصلہ کی طرف کوئی توجہ نہیں ۔ کیا تم ان کے تخت کو امن کی حدود