نزول المسیح — Page 290
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۸۶ الهدى بل من أول أسباب غضب الله على المسلمين وجود هذه السلاطين بلکہ ان عیش پسند غافل بادشاہوں کا وجود مسلمانوں پر خدا تعالیٰ کا الغافلين المترفين الذين أخلدوا إلى الأرض كالخراطين۔ وما بذلوا بڑا بھاری غضب ہے۔ جو ناپاک کیڑوں کی طرح زمین سے لگ گئے ہیں العباد الله جهد المستطيع وصاروا كطالع وما عدوا كالطرف اور خدا کے بندوں کے لئے پوری طاقت خرچ نہیں کرتے اور لنگڑے اونٹ الضليع۔ ولأجل ذالك ما بقى معهم نصرة السماء ۔ ولا کی طرح ہو گئے ہیں اور چست چالاک گھوڑے کی طرح نہیں دوڑتے ۔ اسی سبب سے آسمان رعب في عيون الكفرة كما هو من خواص الملوك الأتقياء ۔۔ کی نصرت ان کا ساتھ نہیں دیتی اور نہ ہی کافروں کی آنکھ میں ان کا ڈر خوف رہا ہے جیسے کہ بل هم يفرون من الكفرة۔ كالحُمُر من القسورة۔ وكفى لألف پر ہیز گار بادشاہوں کی خاصیت ہے بلکہ یہ کافروں سے یوں بھاگتے ہیں جیسے شیر سے منهم اثنان في موطن الملحمة۔ فما سبب هذا الجبن وهذا گدھے۔ اور لڑائی کے میدان میں ان کے دو ہزار کے لئے دو کافر کافی ہیں ۔ سو اس بزدلی اور الادبار ۔ إلا عيشة التنعم والا تراف كالفجار۔ وكيف يُعضدون ادبار کا سبب بجز بدکاروں کی طرح عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے کے اور کچھ نہیں۔ اور ایسی بالنصرة والإعانة۔ مع هذه الغواية والخيانة فإن الله لا خیانت اور گمراہی کے ہوتے انہیں کیونکر خدا سے مدد ملے۔ اس لئے کہ يُبدل سنته المستمرة۔ ومن سُنّته أنه يؤيد الكفرة ولا خدا اپنی دائمی سنت کو تبدیل نہیں کرتا اور اس کی سنت ہے کہ کافر کو تو يؤيد الفجرة۔ ولذالك ترى ملوک النصارى يؤيدون مدد دیتا ہے پر فاجر کو ہرگز نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ نصرانی بادشاہوں کو مدد مل رہی ۔ ہے اور