نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 822

نزول المسیح — Page 276

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۷۲ الهدى اللسان وطلاقة كالعين۔ ويُرزقون بصيرة القلب مع نور العين روانی چشمہ کی طرح اور انہیں دل کی بینائی اور نور دیدہ دونوں بخشی جاتی ہیں اور وہ پاتے ہیں ويفوزون من ربهم بالسهمين۔ ويرجعون بالغُنمين وإنهم قوم اپنے رب سے دو حصے اور لوٹتے ہیں دوہری لوٹ لے کر ۔ اور وہ وہ لوگ ہیں جو اتر پڑے ہیں نزلوا عن متن ركوبة الأهواء ۔ وحلّوا فناء الفناء۔ جلّت نيتهم۔ و ہوائے نفس کی سواری کی پیٹھ پر سے اور اُترے ہیں فنا کے آنگن میں ۔ ان کی نیتیں اور مقاصد بڑے قلت غفلتهم۔ لا يرون في سبيل الله أثرا إلا يقفونه۔ ولا جدارًا ہیں اور غفلت ان میں نہیں ۔ اللہ کی راہ میں کوئی ایسا نشان نہیں دیکھتے جس کی پیروی نہ کریں اور إلا يعلونه۔ ولا واديا إلا يجزعونه۔ ولا هاديا إلا يستطلعونه۔ کوئی ایسی دیوار نہیں دیکھتے جس پر چڑھ نہ جائیں اور نہ کوئی ایسی وادی جسے طے نہ کریں اور نہ کوئی عُشاق الرحــمــــان۔ وفي سبيـلـه كـالـنـشـوان۔ من ذا الذي ایسا ہادی جس سے راہ کی خبر نہ پوچھ لیں ۔ وہ رحمان کے عاشق اور اس کی راہ میں سرمست اور ٢٩) يقرع صفاتهم۔ أو يُضاهى صفاتهم۔ ومن جاء هم كدبير ۔ فقد متوالے ہوتے ہیں۔ وہ ہے کون جو اُن کی توہین و تحقیر کرے یا ان جیسی صفات پیدا کر دکھائے جو لفح ولا كلفح هجير۔ إنّهم يسعون إلى الحضرة عند المشكلات۔ نص ان کے مقابل مخالف بن کر آیا وہ روسیاہ ہوا۔ وہ لوگ مشکلات کے وقت خدا کی طرف شخص بدمع أحر من دمع المقلات ۔ وإن مثلهم كمثل سرحة دوڑتے ہیں ایسے آنسوؤں کے ساتھ جو گرم دیگچی ۔ کے ساتھ جو گرم دیگچی سے بھی زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ وہ اس درخت کی كثيفة الأغصان ۔ وريقة الأفنان مثمرة بثمار الجنان۔ و مانند ہوتے ہیں جس کی شاخیں گھنی ہوں اور اس کی ٹہنیوں پر خوب پتیاں ہوں اور بہشتی پھل اُسے من أتاها تساقط عليه رُطَبًا جنيًّا فطوبى للجوعان۔ لگے ہوں اور جو اس کے پاس آوے تر بتر میوے اُس پر گرائے سو بھوکے کو خوشخبری ہو۔ وہ وہ