نزول المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 822

نزول المسیح — Page 273

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۶۹ الهدى و كثر هوامها۔ وهو ينقل تائها من واد إلى واد۔ وليس معه سراج ولا ﴿۲۵﴾ اور اس کے کیڑے مکوڑے بہت ہو گئے ہیں۔ اور وہ ایک وادی سے دوسری میں مارا مارا پھرتا يسمع صوت هاد۔ وما رافقه من رفيق وما تزود من زاد۔ ولا ہے اور نہ اس کے پاس چراغ ہے اور نہ کسی رہنما کی آواز سنتا ہے اور نہ اس کا کوئی ساتھی ہے يــجــد خـفـيــرا۔ ولا يرى بـشـيـرا ۔ ولا مـصبـاحا منيرا۔ ورجل آخر اور نہ سفر خرچ ہی پاس ہے۔ اور نہ کوئی بدرقہ ملتا اور نہ کوئی مژدہ رسان نظر آتا ہے اور نہ روشن أراد سفرًا بالخيل والرجالة۔ فتدثر فرسا كالغزالة۔ وخرج چراغ ۔ اور ایک اور شخص ہے جس نے سفر کرنا چاہا ہے سواروں اور پیادوں کے ساتھ ۔ پس وہ من البلدة إذا ذر قرن الغزالة۔ مع رفقة كالهالة۔ عاصمين آہودش گھوڑے پر سوار ہوا اور آفتاب کے چڑھتے ہی شہر سے نکل کھڑا ہوا اپنے چندر فیقوں کے ساتھ من الضلالة۔ هل يستوى ذالك وهذا عند أولى النهى۔ جو ہالہ کی طرح تھے اور بھٹکنے سے بچانے والے تھے۔ کیا د دانشمندوں ۔ ں کے نزدیک یہ دونوں شخص برابر وإن في ذالك لعبرة لمن يخشى۔ فالحق والحق أقول إن أهل الله ہیں۔ اس مثال میں ڈرنے والے کے لئے عبرت ہے۔ سوچ یہی ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ يرزقون من ربّ العباد۔ ويُهدون إلى طريق السداد۔ ويُهياً لهم جميع کے لوگوں کو بندوں کے پروردگار سے روزی ملتی ہے اور درستی کی راہ کی طرف انہیں چلایا جاتا ہے۔ اور لوازم الرشاد۔ ويُعطى لهم كل قوّة وجبت للعتاد۔ وكفت للارتقاء کامیابی کے سارے لوازم ان کے لئے بہم پہنچائے جاتے ہیں اور انہیں ساز و سامان کے لئے جتنی قوت على المصاد۔ فما كان لأهل الدنيا أن يُسابقوهم ويأتوا (٢٦) درکار ہوتی ہے اور صید گاہ پر چڑھنے کے لئے کافی ہوتی ہے بخشی جاتی ہے۔ سو د نیا داروں کے برتے میں بأكباد مثل تلك الأكباد۔ ولو استنوا استنان الجياد ۔ وكيف نہیں ہوتا کہ ان سے آگے نکل جائیں اور ان کا سادل گردہ لائیں۔ خواہ گھوڑوں کی طرح دوڑیں۔ اور