نورالحق حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 512

نورالحق حصہ دوم — Page 242

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۴۲ نور الحق الحصة الثانية قمر السماء مشابة بقريحتي كطليح أسفار السّرَى يتطرَّبُ آسمان کا چاند میری طبیعت سے مشابہ ہے اس اونٹ کی طرح جو رات چلنے کی مشق رکھتا ہے خوش ہے نَصَعَت مقاصد ربّنا بخسوفه فاطلب هداه وما أخالك تطلب اس کے گرہن سے ہمارے خداوند کے مقاصد ظاہر ہو گئے سو اس کی ہدایت کو ڈھونڈھ اور میں نہیں امید رکھتا کہ تو ڈھونڈے ظهرت بفضل الله في بلداننا - آياته العظمى فتوبوا وارهَبوا خدا کے فضل سے اس کے بڑے نشان ہمارے ملک میں ظاہر ہو گئے پس تو بہ کرو اور اس سے ڈرو قمر كمثل ظعينة في ظعنها شاقتك جلوتُه وفيها ترغب چاند ایسا ہے جیسے ہودہ میں ہودہ نشین عورت اس کا جلوہ شوق بخش ہے اور رغبت وہ ہے وَدَقُ الرّواعد قد تعرَّضَ حوله ارزامُها في كل حين يُعْجِبُ بادلوں کا مینہ اس کے گردا گرد ہے ان بادلوں کی آواز ہر وقت تعجب میں ڈالتی ہے ۔ غيم كأطباق تَصِرُّ خيامه رعد كمثل الصالحين يُؤوِّبُ بادل طبق بر طبق سے اس کے خیموں کی آواز آ رہی ہے اور بادل کی گرج نیک بختوں کی طرح تسبیح میں ہے قمر بحليته مُشاكهة الدَّمِ وجـة كــــــضبان يهول ويُرعِبُ چاند اپنی شکل میں خون کے مشابہ ہو رہا ہے غصہ والوں کی طرح منہ ہے جو ڈراتا ہے في جَلْهَتيه بدا السحاب كأنّه كِفَفٌ على أيدي التي هي تَغْضَبُ اس کے دونوں کناروں میں اس طور سے بادل ہے گویا وہ سوئی کے نقش کے دائرے ہیں اس عورت کے ہاتھ میں جو غصہ میں ہو قد صار قمر الله مطعونَ الدُّجَى ليل منير كافر فتعجبوا خدا تعالیٰ کے چاند کو تاریکی کی تہمت لگائی گئی چاندنی رات اندھیری رات بن گئی پس تعجب کرو إني أراه كَنُوي دارٍ خَربَةٍ لم يبق إلا مثل طَلَلٍ يَشْجَبُ میں اس کو خراب شدہ گھر کی خندق کی طرح دیکھتا ہوں صرف نشان کی طرح باقی رہ گیا ہے جو غمگین کرتا ہے۔ كُسِفَتُ ذُكاء الله بعد خسوفه إني أراهــا مـثـل دارٍ تُخْرَبُ پھر سورج کو خسوف کے بعد گرہن لگا اور میں اس کو دیکھتا ہوں جیسا کہ گھر خراب شده