نورالحق حصہ دوم — Page 236
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۳۶ نور الحق الحصة الثانية واستمرت عادته، أنه إذا جاء زمان الظلام وجُعِل دين الإسلام غَرَضَ اور عادت اسی طرح پر جاری ہے کہ جب تاریکی کا زمانہ آ جائے اور دین اسلام تیروں کا نشانہ ٹھہرایا جاوے السهام، وطال عليه ألسنة الخواص والعوام، واختار الناس طرق اور اس پر خواص اور عوام کی زبانیں جاری ہوں اور لوگ ارتداد کے طریقے اختیار کرلیں الارتداد، وأفسدوا في الأرض غاية الإفساد ، فتتوجه القيومية الإلهية اور زمین میں غایت درجہ کا فساد ڈال دیں پس قیومیت الهیه توجہ فرماتی ہے کہ تا دین کی حفاظت کرے إلى حفظه وصيانته، ويبعث عبدًا لإعانته، فيجدد دين الله بعلمه اور کوئی بندہ اس کی اعانت کے لئے کھڑا کر دیتا ہے پس وہ دین اسلام کو اپنے علم اور صدق اور امانت کے ساتھ وصدقه وأمانته، ويجعل الله ذلك المبعوث زكيا وبالفيوض حريًّا، تازہ کر دیتا ہے اور خدا اس مبعوث کو زکی اور لائق فیض بناتا ہے اور اس کی آنکھ کھولتا ہے اور اس کو تازہ بتازہ ويكشف عينه ويهب له علمًا غضًا طريا، ويجعله لعلوم الأنبياء من علم بخشا ہے اور نبیوں کے علموں کا اس کو وارث ٹھہراتا ہے۔ پس وہ ایسے پیرایوں میں الوارثين۔ فيأتي في حللٍ تُقابل حلل فساد الزمان، وما يقول إلا ما علمه آتا ہے جو فساد زمانہ کے پیرایوں کے مقابل پر ہوتے ہیں اور وہی کہتا ہے جو خدا کی زبان نے اسے سکھایا ہو اور لسان الرحمن، وتُعطى له فنون من مبدأ الفيضان، على مناسبات فساد مبدء فیضان سے کئی قسم کے علم اس کو دیئے جاتے ہیں جو زمانہ کے فساد کے موافق أهل البلدان۔ ثم لا تعجب من أن روحانية القمر تقبل بعض أنوار الله ہوں۔ پھر تو اس بات سے کچھ تعجب مت کر کہ چاند کی روحانیت حالت انساف میں کچھ انوار الہی قبول کر لیتی ہے في حالة الانخساف، وروحانية الشمس في وقت الانكساف، فإن هذا ایسا ہی سورج کی روحانیت بھی کیونکہ خدا تعالیٰ کے بھیدوں اور من أسرار إلهية، وعجائبات ربانية، فلا تكن من المرتابين۔ عجائبات میں سے ہے پس اس میں شک مت کر ۔ یہ