نورالحق حصہ دوم — Page 214
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۱۴ نور الحق الحصة الثانية غير الأيام المعتادة بالتقليل أو الزيادة، لما سمّاه القرآن خسوفا ولا كسوفا، کے لئے سنت قدیمہ میں نہیں ہے تو قرآن اس کا نام خسوف کسوف نه رکھتا بلکہ دوسرے لفظ سے بل ذكره بلفظ آخر وبينه ببيان أظهر، ولكن القرآن ما فعل كذا كما أنت بیان کرتا لیکن قرآن نے ایسا نہیں کیا ۲۳) ترى، بل سمّى الخسوف خسوفا ليُفهم الناس أمرًا معروفًا۔ نعم، ما ذكر جیسا کہ تو دیکھتا ہے بلکہ اس کا نام خسوف ہی رکھا تاکہ لوگوں کو سمجھاوے کہ یہ خسوف معروف ہے ۔ الكسوف باسم الكسوف، ليشير إلى أمر زائد على المعتاد المعروف، فإن کوئی اور چیز نہیں ہاں قرآن نے کسوف کو کسوف کے لفظ سے بیان نہیں کیا تا ایک امر زائد کی طرف اشارہ هذا الكسوف الذي ظهر بعد خسوف القمر كان غريبا ونادرة الصور، وإن کرے کیونکہ سورج گرہن جو بعد چاند گرہن کے ہوا ایک غیر معمولی كنت تطلب على هذا شاهدًا أو تبغى مُشاهدًا فقد شاهدت صوره الغريبة اور نادرة الصور تھا اور اگر تو اس پر کوئی گواہ طلب کرتا ہے یا مشاہدہ کرنے والوں کو چاہتا ہے وأشكاله العجيبة إن كنت من ذوى العينين۔ ثم كفاك في شهادته ما طبع پس اس سورج گرہن کی صور غریبہ اور اشکال عجیبہ مشاہدہ کر چکا ہے پھر تجھے اس بارہ میں وہ خبر في الجريدتين المشهورتين المقبولتين۔ أعنى الجريدة الإنكليزية بانير ، کفایت کرتی یہ ہے جو دو مشہور اور یہ مقبول اخبار وسول ملتری گرت ، المشاعتين في مارج سنة ٨٩٤اء والمشتهرتين۔ یعنی پانیر اور سول ملٹری گزٹ میں لکھی گئی ہے اور وہ دونوں پر چھے مارچ ۱۸۹۴ء وأما تفصيل الشهادتين فهو أن هذا الكسوف الواقع في ٦ / إبريل کے مہینہ میں شائع ہوئے ہیں۔ اور ان کی گواہیوں کی تفصیل یہ ہے کہ ان دونوں پر چوں میں لکھا ہے کہ یہ کسوف اپنے سنة ١٨٩٤ء متفرد بطرائفه، ولم يُرَ مثله من قبل في كوائفه، وأشكاله عجائبات میں متفرد اور غیر معمولی ہے یعنی وہ ایک ایسا کسوف ہے جو اس کی نظیر پہلے نہیں دیکھی گئی اور اس کی شکلیں