نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 50

روحانی خزائن جلد ۸ ۵۰ نور الحق الحصة الأولى خليع الرسن، مديد الوسن، فمالوا عن الحق إلى الباطل، وتركوا أصحاب جو کھلی رسی والا اور دراز خواب والا ہے سو وہ حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف جھک گئے اور داہنے ہاتھ کی طرف والوں کو اليمين۔ لم لا ينهاهم أكابرهم عن المنكرات، ولم لا يمنعونهم من نقل چھوڑ دیا۔ ان کے اکابر کیوں ان کو بُری باتوں سے منع نہیں کرتے اور کیوں ان کو گناہوں کی طرف قدم اٹھانے سے الخطوات إلى خطط الخطيات، ولم يتركونهم فارغين؟ فعندى من منع نہیں فرماتے اور کیوں ان کو فارغ بٹھا رکھا ہے۔ سو میرے نزدیک واجبات سے ہے کہ کچھ ایسی خدمات ان الواجبات أن تُكتب عليهم خدمات تناسب قوم كل أحد وحرفة كل أحد۔ پر مقرر کی جائیں جو قوم اور پیشہ کے لحاظ سے ان کے مناسب حال ہوں پس چاہیئے کہ نجار کو تو تیشہ دیا جائے اور فليعط للنجار فاسًا، وللطارق النفاش منسجا حرفاسا، وللحجام مشراطا دہننے کے لئے ایک مضبوط دھنکی ( پنجن ) اور نائی کو نشتر اور استرا اور تیلی کو ایک بڑا سا کو ہلو سپر د ہوتا کہ ہر ایک شخص وموسى، وللعصار معصرة عظمى، لكى يشتغل كل أحد منهم بما هو أهله، ان میں سے اس کام میں مشغول ہو جائے جس کا وہ اہل ہے اور تا کہ اس انتظام سے ہر ایک ان میں سے فضول ويمتنع من كل فضول ولغو وتأثيم، ولكي يستريح الخلق من شرهم، گوئی اور بے ہودہ اور گناہ کی باتوں سے رک جائے تا کہ خلق اللہ اور خدا تعالی کے بندوں کو ان کی شرارت اور وعباد الله من أذاهم، وفي ذلك نفع عظيم لأكابرهم المغبونين۔ ایزا سے راحت حاصل ہوا اور اس انتظام میں ان کے اکابر کو جو زیاں رسیدہ ہیں بہت ہی نفع ہے۔ وأما هذا الرجل الذي صال على، فما صال إلا لحاجة ألجأته اور یہ آدمی جس نے مجھ پر حملہ کیا سو اس نے صرف اس اضطرار کی وجہ سے حملہ کیا ہے جو اس کو پیش آئے إلى ذلك، وهو أنه عجز عن جواب سؤالات قد أوردناها عليه وعلى اور وہ یہ ہے کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہو گیا جو ہم نے ایک مباحثہ میں جو ان میں اور ہم میں رفقائه في مباحثة كـانـت بـيـنـنـا وبـيـنـهـم، وتبين أنهم على الباطل تھا اس پر اور اس کے رفیقوں پر کئے تھے اور کھل گیا کہ وہ لوگ باطل