نورالحق حصہ اوّل — Page 45
روحانی خزائن جلد ۸ ۴۵ نور الحق الحصة الأولى أن أدعى التفرد في هذه الخدمات، ولى أن أقول إنني وحيد في هذه یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات التأييدات، ولى أن أقول إنني حرز لها وحصن حافظ من الآفات، وبشرني (۳۳) میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے ربي وقال ما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم۔ فليس للدولة نظيرى ومثيلي بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی في نصرى وعوني، وستعلم الدولة إن كانت من المتوسمين۔ اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔ وأما الذين دخلوا في الملة النصرانية تاركين دين الإسلام مگر وہ لوگ جو عیسائی دین میں داخل ہوئے اور دین اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیا سو ہم ان کو وباعدين عن ظل خير الأنام، فما نجدهم قائمين لخدمة الدولة ایسے نہیں دیکھتے کہ سرکار انگریزی کی کچھ خدمت کرتے ہوں یا مخلص ہوں بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ والمخلصين لهذه الحضرة، بل نجدهم مداهنين منافقين، وما دخلوا وہ مداہنہ اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ اور اکثر لوگ دین عیسائی میں محض اسی لئے داخل ہوئے ہیں تا اپنی أكثرهم في دينهم إلا ليستطبّوا الوجع الجوع، وليفعموا كأس الولوع، درد گرسنگی کا علاج کریں اور اپنے حرص کے پیالوں کو لبالب بھر دیں سو کسی صبح یہ لوگ تتر بتر فسينتشرون ذات بكرة إذا رأوا أنهم أخرجوا من روض الرتوع، ويعجبون ہو جائیں گے جبکہ دیکھیں گے چراگاہ سے نکالے گئے اور لوگوں کو اپنے جلد پھرنے الناس من وشك الرجوع۔ ونحن نراهم مذ أعوام مناجين للإخفار كلئام، سے تعجب میں ڈالیں گے اور ہم تو ان کو کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنا مذہبی قول و اقرار توڑنے کو تیار ولا نجد فيهم شيئا من الأوصاف إلا عشق الصَّعُف والصحاف وإلف الجيفة ہیں اور ہم ان میں بجز اس کے کوئی خوبی نہیں پاتے کہ وہ شراب اور خوش مزہ کھانوں کے جو پیالوں میں بھرے ہوئے ہوں