نورالحق حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 512

نورالحق حصہ اوّل — Page 38

روحانی خزائن جلد ۸ ۳۸ نور الحق الحصة الأولى و وجب الارتحال، ولو قصدنا ذكر خدماته لضاق بنا المجال، وعجزنا کا وقت آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سما نہ سکیں اور ہم لکھنے سے عن التدوين۔ فالملخص أن أبى لم يزل كان شائِم برق الدولة، وقائما عاجز رہ جائیں۔ پس خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امید وار رہا على الخدمة عند الضرورة، حتى أعزّته الدولة بمكاتيب رضائها، اور عند الضرورت خدمتیں بجا لاتا رہا یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز وخصّته في كل وقت بعطائها، وأسمحت له بمواساتها، وتفضلت عليه کیا اور ہر ایک وقت اپنی عطاؤں کے ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غم خواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی بمراعاتها، وحسبته من دواعي الخير ومن المخلصين۔ ثم إذا توفى أبي اور اس کو اپنے خیر خواہوں اور مخلصوں میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پا گیا تب ان خصلتوں میں فقام مقامه في هذه السِّير أخى الميرزا غلام قادر، وغمرته مواهب اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام میرزا غلام قادر تھا اور سرکار انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے الدولة كما غمرت والدى، وتوفى أخى بعد أبي في بضع سنين۔ ثم بعد شامل حال ہو گئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہو گیا وفاتهما قفوت أثرهما واقتديتُ سِيَرَهما وذكرت عصرهما، ولكني ما پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد كنت ذا خصب ونعمة وسعة وثروة ولا ذا أملاك وأرضين، بل تبتلت کیا لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا بلکہ میں ان کی وفات کے إلى الله بعد ارتحالهما ولحقت بقوم منقطعين۔ وجذبني ربّي إليه بعد اللہ جل شانہ کی طرف جھک گیا اور ان میں جاملا جنہوں نے دنیا کا تعلق توڑ دیا۔ اور میرے رب نے اپنی طرف وأحسن مثواى، وأسبغ على من نعماء الدين۔ وقادني من تدنّسات مجھے کھینچ لیا اور مجھے نیک جگہ دی اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر کامل کیا اور مجھے دنیا کی آلودگیوں اور مکروہات سے