نورالحق حصہ اوّل — Page 27
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۷ نور الحق الحصة الأولى إثم، فاتقوا الظنون الفاسدة التي تتزعج منها أرض إيمان الظانين وتنزعج سو تم ایسے ظن مت کرو جن سے بدگمان انسان کی ایمانی زمین ہل جاتی ہے اور نیت النية الصالحة، وتكثر وساوس الشياطين۔ وقوموا متوكلا على الله صالحہ میں جنبش آتی ہے اور شیطانی وساوس بڑھتے ہیں۔ اور خدا کے توکل پر کھڑے ہو جاؤ اور وقدموا من خير ما استطعتم ، وأَعِدُّوا لأخيكم من زاد يكفيه لسفره کوئی نیکی کر لو جو کر سکتے ہو اور اپنے بھائی کے لئے کچھ زاد سفر بہم پہنچاؤ جو اس کے سفر بحری البحرى والبرى، وكان الله معكم ووفقكم وهو خير الموفقين۔ اور پر تکلف بیانوں اور بری کے لئے کافی ہو خدا تمہارے ساتھ ہو اور تمہیں توفیق دے اور وہ بہتر توفیق دہندہ ہے ۔ فنرجو من إخلاص أهل الثروة والمقدرة أن يتوجهوا إلى پس ہم اہل مقدور دوستوں کے اخلاص سے امید رکھتے ہیں کہ اس کام کے اہتمام کی طرف اهتمام هذا الأمر بكل القلب وكل الهمة، ولا حاجة إلى أن تكثر سارے دل اور ساری ہمت سے مصروف ہوں اور ہمیں کچھ حاجت نہیں کہ ہم زیادہ کہیں اور کلام میں مبالغہ کریں القول ونبالغ في الكلام ونستنهض همم الأحبّاء والمخلصين ببيانات سے اپنے دوستوں اور مخلصوں کو تحریک دیں کیونکہ ہم مملوة من التكلفات، فإنّا نعلم أن الإشارة كافية لأحبائنا المتصدقين۔ جانتے ہیں کہ ان کے لئے اشارت کافی ہوگی لِلہ کام کرنا ان کی عادت ہے۔ فليعط كل أحد منهم بقدر قدرته التي أعطاه الله ولا يستحى ولا پس چاہیئے کہ ہر ایک ان میں سے بقدر خدا داد استطاعت دیوے اور اس بات سے شرم نہ کرے يحتشم من أن ينفح بالقليل، وليعلم أن الغرض أن يُعطى ولو كانت کہ وہ کچھ تھوڑا دیتا ہے اور اس بات کو معلوم کرے کہ غرض اصلی یہ ہے کہ دیوے اگر چہ ایک پیسہ یا اس کا چوتھا فلسة أو ربعه أو أقل من الفتيل۔ ومن كان ذا عيشة خضراء فليعط حصہ یا کھجور کے اندر کے چھلکے سے بھی تھوڑا ہو اور جو شخص خوش اوقات کھاتا پیتا ہو سو اگر چاہے تو ﴾٢٠