نورالحق حصہ اوّل — Page 25
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۵ نور الحق الحصة الأولى واعلموا أيها الإخوان أن أمر إشاعة الكتب في ديار العرب اور بھائیو یہ بھی تمہیں معلوم رہے کہ دیار عرب میں کتابوں کے شائع کرنے کا معاملہ اور ہماری وتبليغ معارف كتبنا إليهم ليس بشيء هين، بل أمر ذو بال لا يتمه إلا کتابوں کے عمدہ مطالب عرب کے لوگوں تک پہنچانا کچھ تھوڑی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان امر ہے اور من هو أهله، فإن هذه المسائل الغامضة التي كُفِّرُنا وكُذِّبُنا لها لا اس کو وہی پورا کر سکتا ہے جو اس کا اہل ہو۔ کیونکہ یہ باریک مسائل جن کے لئے ہم کا فرٹھہرائے گئے اور جھٹلائے گئے شك أنها تصعب على علماء العرب كما صعبت على علماء هذه کچھ شک نہیں کہ وہ عرب کے علماء پر بھی ایسے سخت ہی گذریں گے جیسا کہ اس ملک کے مولویوں پر گذر رہے الديار، لا سيما على أهل البوادى الذين لا يعلمون دقائق الحقيقة، ولا ہیں بالخصوص عرب کے اہل بادیہ کو تو بہت ہی ناگوار ہوں گے کیونکہ وہ باریک مسائل سے بے خبر ہیں اور وہ يتدبرون حق التدبّر، أنظارهم سطحية وقلوبهم مستعجلة، إلا قليل جیسا کہ حق سوچنے کا ہے سوچتے نہیں اور ان کی نظریں سطحی اور دل جلد باز ہیں مگر ان میں منهم الذين أنار الله فطرتهم وهم من النادرين۔ قليل المقدار ا یسے بھی ہیں جن کی فطرتیں روشن ہیں اور ایسے لوگ کم پائے جاتے ہیں۔ فلأجل تلك المشكلات التي سمعتم اقتضت المصلحة الدينية أن سو ان مشکلات کی وجہ سے جو تم سن چکے مصلحت دینی نے تقاضا کیا جو اس کام نتخير لهذا الأمر عالما مذكورا الذى اسمه محمد سعيدي النشار الحميدي کے لئے ہم عالم مذکور کو منتخب کریں جس کا نام محمد سعیدی النشار الحميدي الشامي ۔ ولا شك أن وجوده لهذا المهم من المغتنمات، ومجيئه عندنا الشامی ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس کا وجود اس مہم کے لئے از بس غنیمت ہے اور اس کا اس جگہ آنا الحاشية مسكنه طرابلس شام ملك سيريا ويُقال لها باللغة الانكليزية | تربولى و هى مدينة عظيمة على ساحل بحر الروم بينها وبين بيروت ثلثون اكواسًا۔ منه ﴾١٩﴿