نورالحق حصہ اوّل — Page 21
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۱ نور الحق الحصة الأولى فرأيت أن شيوع الكتب في تلك البلاد فرع لوجود رجل صالح پس میں نے دیکھا کہ کتابوں کا ان ملکوں میں شائع ہونا ایک ایسے نیک انسان کے وجود کی فرع ہے جو شائع کرنے والا ہو يُشيعها، وأيقنت أن شهرة كتبى وانتشارها في صلحاء العرب أمر اور میں نے یقین کیا کہ میری کتابوں کا صلحاء عرب میں شائع ہونا ایک امر محال ہے بجز اس صورت کے کہ مستحيل من غير أن يجعل الله من لدنه ناصرا منهم ومن إخوانهم۔ خدا تعالیٰ اپنی طرف سے میرے لئے ان میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے کوئی مدد دینے والا مقرر فكنت أرفع أكف الضراعة والابتهال لتحصيل هذه المنية، وتحقيق کرے سو میں تضرع کے ہاتھ اٹھاتا اور دعا ئیں عاجزی سے کرتا تھا کہ یہ آرزو اور مراد میرے لئے حاصل اور هذه البغية، حتى أُجيبت دعوتى، وأُعطيتُ لي بغيتي، وقاد إلى فضل متحقق ہو یہاں تک کہ میری دعا قبول کی گئی اور میری مراد مجھے دی گئی اور میری طرف خدا کا فضل ایک ایسے آدمی الله رجلا ذا علم وفهم ومناسبة ومن علماء العرب ومن الصالحين۔ کو کھینچ لایا جو صاحب علم اور فہم اور مناسبت تھا اور نیک بختوں میں سے تھا۔ ووجدته طيب الأعراق كريم الأخلاق، مطهّرة * الفطرة لَوْ ذَعِيًّا الْمَعِيًّا (١٦) اور میں نے اس کو پاک اصل اور پسندیدہ خلق والا اور پاک فطرت والا اور دانا اور پرہیز گار پایا و ومن المتقين۔ فابتهجت بلقائه الذي كان مرادي ومدعائي، وحسبته سو میں نے اس کی ملاقات سے جو میری عین مراد تھی خوش ہوا اور اپنی دعا کا پہلا پھل باكورة دعائي، وتفاء لت به بخير يأتي وفضل يحمى، وازدهاني الفرح میں نے اس کو خیال کیا اور آنے والی خیر اور بچانے والے فضل کے لئے میں نے اس کو ایک نیک وصرت يومئذ من المستبشرين، فهنيتُ نفسي هنالك وشكرت الله فال سمجھا اور کثرت خوشی نے مجھ کو ہلا دیا اور اس دن میں اُن لوگوں میں سے ہو گیا جو خوش ہوتے ہیں سو میں نے اپنے نفس کو اس وقت وقلت الحمد لك يا رب العالمين۔ مبارک باددی اور خدا کا شکر کیا اور کہا کہ اے تمام جہانوں کے خدا تیرا شکر ہے۔ سهو، والصحيح: مطهر“ (الناشر) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے نے “ زائد ہے۔ (ناشر)